جوڑوں کا دیرینہ درد ایک عام مرض ہے جو عموماً گھٹنوں، کولہوں اور ہاتھوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس مرض کی تشخیص کے بعد عموماً معالج ورزش کو باقاعدہ علاج کا حصہ قرار دیتے ہیں مگر ایک نئی جامع تحقیق نے اس کے فوائد پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
محققین نے متعدد سابقہ تحقیقی جائزوں اور درجنوں اضافی مطالعات کا تجزیہ کیا جن میں ہزاروں مریض شامل تھے۔ انہوں نے گھٹنے، کولہے اور ہاتھ کے جوڑوں کے گھساؤ میں ورزش کے اثرات کا موازنہ مختلف طریقہ ہائے علاج سے کیا جن میں کچھ نہ کرنا، فرضی علاج، ادویات، ٹیکے اور جراحی شامل تھے۔
نتائج کے مطابق ورزش سے درد میں معمولی کمی دیکھی گئی جو سو درجوں کے پیمانے پر تقریباً 6 سے 12 درجوں تک تھی تاہم روزمرہ کام کرنے کی صلاحیت میں بہت زیادہ فرق سامنے نہیں آیا۔
گھٹنے اور کولہے کے مریضوں میں ورزش کا اثر بعض درد کش ادویات اور سوزش کم کرنے والے ٹیکوں جتنا پایا گیا۔ البتہ مکمل جوڑ کی تبدیلی جیسی جراحی کے مقابلے میں ورزش کم مؤثر قرار دی گئی۔
تاہم اس تحقیق کی چند اہم حدود بھی ہیں۔ سب سے پہلے مختلف اقسام کی ورزش کو ایک جیسا سمجھ لیا گیا حالانکہ طاقت بڑھانے والی، تیز قدمی، کھچاؤ والی یا پانی میں کی جانے والی ورزش کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔
مزید یہ کہ مریضوں کی بیماری کی شدت کو بھی یکساں مانا گیا جب کہ شدید درد والے افراد میں بہتری کے امکانات زیادہ ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح زیر نگرانی اور بغیر نگرانی کی جانے والی ورزش میں فرق کو بھی نظر انداز کیا گیا، حالانکہ تربیت یافتہ رہنمائی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
زیادہ تر مطالعات کا دورانیہ بھی کم تھا، تقریباً بارہ ہفتے جب کہ طویل عرصے تک باقاعدگی سے ورزش کرنے کے اثرات زیادہ بہتر ہوسکتے ہیں۔ ہفتہ وار ورزش کی مقدار بھی اہم ہے کیونکہ شواہد بتاتے ہیں کہ معتدل شدت کی تقریباً ڈھائی گھنٹے ہفتہ وار سرگرمی بہترین نتائج دے سکتی ہے۔
ان حدود کے باوجود درد میں دس فیصد کمی بھی مریض کی روزمرہ زندگی، نقل و حرکت اور سماجی سرگرمیوں میں واضح فرق ڈال سکتی ہے۔
مزید برآں ورزش دل کی صحت بہتر بناتی، وزن قابو میں رکھتی، موڈ خوشگوار کرتی اور کئی دائمی امراض کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ مریض ورزش ترک نہ کریں جو سرگرمی آپ کو پسند ہو اور باقاعدگی سے کی جا سکے وہی بہترین ہے۔ باقاعدہ اور مسلسل ورزش طویل مدت میں زیادہ فائدہ پہنچاسکتی ہے۔



















