Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

میٹابولائٹس پر مبنی مصنوعی ذہانت کا ماڈل موت کے وقت کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب

پینتالیس ہزار پوسٹ مارٹم سے حاصل کیے گئے خون کے نمونوں پر مشتمل ایک منفرد ڈیٹا بیس استعمال کیا گیا

محققین نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کیا ہے جو خون میں موجود حیاتیاتی کیمیائی مادّوں کے تجزیے کی بنیاد پر موت کے بعد گزرے وقت کا زیادہ درست اندازہ لگا سکتا ہے۔ یہ تحقیق ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

یہ منصوبہ لنشوپنگ یونیورسٹی اور سویڈش قومی فرانزک میڈیکل بورڈ کے محققین نے مشترکہ طور پر تیار کیا۔ تحقیق کی قیادت ڈاکٹر راسموس میگنسن نے کی، جبکہ دیگر ماہرین میں پروفیسر ہنریک گرین اور ڈاکٹر ایلِن نیمان شامل ہیں۔

محققین کے مطابق موت کے بعد جسم میں مختلف حیاتیاتی عمل شروع ہو جاتے ہیں، جن کے نتیجے میں خون میں موجود چھوٹے کیمیائی اجزا میں باقاعدہ تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان اجزا کو میٹابولائٹس کہا جاتا ہے، اور ان کی مقدار وقت کے ساتھ مخصوص انداز میں تبدیل ہوتی ہے، جسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کر کے موت کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا غیر ضروری سیزیرین کی شرح میں اضافے کا اعتراف

تحقیق میں تقریباً پینتالیس ہزار پوسٹ مارٹم سے حاصل کیے گئے خون کے نمونوں پر مشتمل ایک منفرد ڈیٹا بیس استعمال کیا گیا۔ ان میں سے چار ہزار آٹھ سو چھہتر نمونے، جن میں موت کے بعد گزرے وقت کا درست ریکارڈ موجود تھا، ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کیے گئے۔

نتائج کے مطابق یہ نیا ماڈل موت سے لے کر پوسٹ مارٹم تک کے وقت کا اندازہ تقریباً ایک دن کی درستگی کے ساتھ لگا سکتا ہے، حتیٰ کہ تیرہ دن تک کے وقفے میں بھی۔

ماہرین کے مطابق یہ موجودہ طریقوں جیسے جسمانی درجہ حرارت، جسم کی سختی اور آنکھ کے اندر موجود سیال میں پوٹاشیم کی مقدار پر مبنی اندازوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے، خاص طور پر جب موت کو کئی دن گزر چکے ہوں۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں مزید تفصیلی معلومات اکٹھی کی جائیں گی تاکہ نہ صرف موت کے بعد گزرے وقت کا زیادہ درست اندازہ لگایا جا سکے بلکہ یہ بھی معلوم کیا جا سکے کہ موت دن کے کس حصے میں واقع ہوئی۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت فرانزک تحقیقات اور پیچیدہ قانونی مقدمات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔