Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انتہائی لمبی دوڑ خون کے خلیات پر بھاری، نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی

نتائج سے ظاہر ہوا کہ لمبی دورانیے کی دوڑ کے بعد سرخ خلیات میں نقصان بڑھ گیا۔

انتہائی لمبی دوڑوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے خون کے خلیات سخت دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں جس سے خون میں آکسیجن پہنچانے اور فضلہ نکالنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی لمبی دوڑ جیسے 100 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کی دوڑ جسم پر اتنا دباؤ ڈالتی ہیں کہ خون کے سرخ خلیات لچک کھودیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ خلیات جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچانے اور فضلہ نکالنے میں کم مؤثر ہوسکتے ہیں۔

تحقیق میں 23 ماہر کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے دو مختلف دوڑوں میں حصہ لیا۔ ایک معمولی لمبی دوڑ (تقریباً 25 میل) اور ایک انتہائی لمبی دوڑ (تقریباً 106 میل) تھی۔ خون کے نمونوں کا جائزہ دوڑ سے پہلے اور فوری بعد لیا گیا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ لمبی دورانیے کی دوڑ کے بعد سرخ خلیات میں نقصان بڑھ گیا اور وہ سخت ہوگئے۔ سخت خلیات جسم میں صحیح طریقے سے حرکت نہیں کر پاتے اور انہیں نکال دیا جاتا ہے جس کا اثر خون کی مقدار اور افادیت پر پڑ سکتا ہے۔

سرخ خلیات اور صحت

ماہرین کے مطابق سرخ خلیات میں یہ نقصان ’’تیز عمر رسیدگی‘‘ کی طرح ہے اور طویل دورانیے کی انتہائی دوڑ میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ یہ نقصان جسم کو مستقل نقصان پہنچاتا ہے یا عارضی ہے۔

تحقیق کے دلچسپ پہلو یہ بھی ہیں کہ خون کے یہ نقصان ان خلیات کے ذخیرہ میں ہونے والے نقصان سے ملتے جلتے ہیں جو طبی مقاصد کے لیے جمع کیے جاتے ہیں۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ دوڑ کے ذریعے خون کے تحفظ کے نئے طریقے سیکھے جاسکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ اگرچہ دوڑنا صحت کے لیے اچھا ہے لیکن انتہائی لمبی دوڑ میں خون کے خلیات پر دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے۔ کھلاڑیوں اور عام لوگوں کو چاہیے کہ اپنی حد کو پہچانیں اور مناسب آرام اور غذائیت کے ساتھ ورزش کریں تاکہ جسمانی نقصان سے بچا جاسکے۔

متعلقہ خبریں