دوران افطار بسیار خوری اور تلی ہوئی اشیا کے زیادہ استعمال کے باعث گیسٹرو اور معدے کے امراض کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
رمضان المبارک میں افطار کے دوران بسیار خوری اور تلی ہوئی اشیا کے زیادہ استعمال کے باعث شہر کے بڑے اسپتالوں میں گیسٹرو اور معدے کے امراض کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق افطار میں سموسے، پکوڑے اور رول سمیت تلی ہوئی اشیا کے کثرت سے استعمال کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد اسپتالوں کا رخ کرنے لگی ہے۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور سول اسپتال کراچی میں گزشتہ سات روز کے دوران گیسٹرو کے 700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور، عیدالاضحیٰ پر بسیارخوری، ہزاروں شہری گیسٹرو میں مبتلا ہو کر اسپتال پہنچ گئے
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریض الٹیاں، موشن، بخار، کھٹی ڈکاریں، معدے میں شدید درد اور تیزابیت کی شکایات کے ساتھ ایمرجنسی میں لائے جا رہے ہیں۔ افطار کے بعد سے سحری تک ایمرجنسی وارڈز میں مریضوں کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق پورے دن کے روزے کے بعد اچانک زیادہ مقدار میں تلی ہوئی غذا کھانے سے نظامِ ہاضمہ بری طرح متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں تیزابیت، دست اور الٹیوں کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ رمضان اعتدال پسندی اور سادہ طرزِ زندگی کا نام ہے، مگر شہری افطار میں تلی ہوئی اشیا وافر مقدار میں استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افطار سادہ غذا سے کریں، کھجور سے روزہ کھولنے کے بعد کچھ وقفہ دیں اور پھر گھر کا بنا ہلکا کھانا استعمال کریں۔ پھل، دہی اور متوازن غذا کو ترجیح دی جائے جبکہ تلی ہوئی اشیا سے مکمل اجتناب برتا جائے تاکہ صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔




















