ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درد، کھانسی، ناک بند ہونا، قبض دور کرنے اور نیند لانے کے لیے استعمال ہونے والی عام 5 ادویات چھپے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ادویات جو بغیر نسخے کے آسانی سے دستیاب ہوں تو وہ مکمل طور پر محفوظ ہوتی ہیں۔
لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض عام استعمال کی جانے والی ادویات غلط مقدار یا طویل عرصے تک استعمال کی صورت میں نقصان، انحصار یا دیگر سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔
درد کم کرنے والی کوڈین والی ادویات
کوڈین ایک ایسی دوا ہے جو جسم میں جاکر مورفین میں تبدیل ہوجاتی ہے اور درد میں کمی لاتی ہے۔ اس کے عام مضر اثرات میں غنودگی، متلی، چکر اور قبض شامل ہیں۔
زیادہ مقدار میں استعمال سانس کی رفتار کم کرسکتا ہے اور جسمانی انحصار پیدا ہوسکتا ہے۔ اچانک چھوڑنے پر بے چینی اور نیند کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
ناک کھولنے والی ادویات
ناک بند ہونے کی صورت میں استعمال ہونے والے قطرے اور گولیاں وقتی طور پر آرام دیتی ہیں لیکن زیادہ استعمال سے ناک مزید بند رہنے لگتی ہے۔
اس کا مسلسل استعمال ناک کی اندرونی جھلی کو نقصان پہنچاسکتا ہے جس سے خشکی، خون آنا اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان ادویات کو چند دن سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
نیند لانے والی ادویات
کچھ الرجی کی ادویات نیند کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں لیکن ان کا مسلسل استعمال خطرناک ہوسکتا ہے۔
وقت کے ساتھ جسم ان کا عادی ہوجاتا ہے اور مطلوبہ اثر کے لیے زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے۔ اچانک ترک کرنے سے شدید بے خوابی اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
کھانسی کا شربت
کھانسی روکنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک عام جزو زیادہ مقدار میں دماغ پر غیر معمولی اثرات پیدا کرسکتا ہے۔
اس کے غلط استعمال سے ذہنی الجھن، بے ہوشی اور دیگر سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جب کہ مناسب مقدار میں یہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
قبض دور کرنے والی ادویات
قبض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض ادویات آنتوں کی حرکت تیز کرتی ہیں لیکن ان کا غیر ضروری استعمال پانی کی کمی، جسم میں نمکیات کا توازن بگاڑنے اور آنتوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ شدید صورت میں دل اور گردوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان ادویات کا مسئلہ یہ نہیں کہ یہ ہمیشہ خطرناک ہیں بلکہ ان کے خطرات کو اکثر کم سمجھا جاتا ہے۔ بغیر نسخے کے دستیابی لوگوں میں غلط تحفظ کا احساس پیدا کرسکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ادویات ہمیشہ ہدایت کے مطابق اور ضرورت کے مطابق استعمال کی جائیں تاکہ فائدہ حاصل ہو اور نقصان سے بچا جاسکے۔




















