Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

گردے کی پتھری بننے میں بیکٹیریا کا کردار دریافت، نیا علاج ممکن

محققین نے کیلشیم آکسالیٹ کی پتھری کے اندر زندہ بیکٹیریا اور بائیو فلمز دریافت کی ہیں۔

امریکی سائنسدانوں نے ایک اہم تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ گردے کی پتھری بننے میں بیکٹیریا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دریافت طب کے اس قدیم مسئلے کے خیالات کو یکسر تبدیل کرسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے محققین نے کیلشیم آکسالیٹ کی پتھری کے اندر زندہ بیکٹیریا اور بائیو فلمز دریافت کی ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گردے کی پتھری کی 80 فیصد اقسام اسی قسم کی ہوتی ہیں جنہیں اب تک محض پیشاب میں موجود نمکیات کے کرسٹل بننے کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا۔

محقق ڈاکٹر کیمورا سکاٹ لینڈ کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس طویل عرصے سے چلے آنے والے خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ پتھریاں صرف کیمیائی اور طبعی عمل سے بنتی ہیں۔

ان کے مطابق بیکٹیریا نہ صرف پتھری کے اندر موجود ہوتے ہیں بلکہ ان کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

الیکٹران اور فلوروسینس مائیکرواسکوپی کے ذریعے جانچ کرنے پر محققین نے نہ صرف پتھری کی بیرونی سطح پر بیکٹیریا دریافت کیے بلکہ انہیں پتھری بنانے والے کرسٹل کے اندر بھی زندہ حالت میں پایا۔

نئے علاج کی راہ

یہ دریافت گردے کی پتھری کے بارے میں ہماری سمجھ کو یکسر تبدیل کرسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بار بار پیشاب کی نالی کے انفیکشن اور گردے کی پتھری بننے کے درمیان کیا تعلق ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ گردے کی پتھری کو اب ایک نامیاتی اور غیر نامیاتی مرکب کے طور پر دیکھنا چاہیے جس میں بیکٹیریل بائیو فلمز اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اگلا مرحلہ

تحقیق کاروں کی ٹیم اب یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ کیوں کچھ مریضوں میں بار بار گردے کی پتھری بنتی ہے اور بیکٹیریا کی کون سی اقسام اس عمل میں خاص کردار ادا کرتی ہیں۔

اگرچہ یہ تحقیق گردے کی پتھری کے بارے میں ایک انقلابی دریافت ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ گردے کی پتھری دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں