Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیند کی دوائیوں کے طویل استعمال سے دل کی بیماری کا خطرہ

میلاٹونن استعمال کرنے والوں میں دل کی بیماری کا خطرہ 89 فیصد زیادہ پایا گیا ہے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کی سائنسی کانفرنس میں پیش کی گئی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ نیند کی دوا کے طور پر استعمال ہونے والے میلاٹونن کے طویل المعیاد استعمال سے دل کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

مختلف ممالک میں نیند نہ آنے کے شکار ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد بالغ افراد پر کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سال سے زائد عرصے تک میلاٹونن استعمال کرنے والوں میں دل کی بیماری کا خطرہ 89 فیصد زیادہ پایا گیا جب کہ ان افراد کی موت کا خطرہ بھی دو گنا زیادہ تھا۔

برطانیہ اور امریکا کے ہیلتھ ریکارڈز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ایک سال سے زائد میلاٹونن استعمال کرنے والوں میں دل کی بیماری سے اسپتال داخل ہونے کا امکان ساڑھے تین گنا زیادہ تھا۔

میلاٹونن کیا ہے؟

میلاٹونن انسانی دماغ میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والے ایک ہارمون کی نقل ہے جو جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم کرتا ہے۔

یہ دوا رات کو سونے میں مدد دیتی ہے جب کہ امریکا میں بالغ افراد کی جانب سے استعمال کیے جانے والے قدرتی مصنوعات میں یہ چوتھے نمبر پر ہے۔

ماہرین کی رائے

نیویارک کی میڈیکل ٹیم کی محقق ایکینیڈیلی چکوو نادی کا کہنا ہے کہ میلاٹونن کے سپلیمنٹس اتنے بے ضرر نہیں ہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی تحقیق کی تصدیق ہوجاتی ہے تو ڈاکٹروں کو نیند کی ادویات کے بارے میں مریضوں کو مشورہ دینے کا انداز بدلنا پڑے گا۔

اسپین فیڈریشن آف سلیپ میڈیسن کے صدر کارلوس ایجیا کا کہنا ہے کہ یہ نتائج میلاٹونن کو ایک محفوظ دوا کے طور پر دیکھے جانے کے تصور کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے علاوہ دیگر افراد کے لیے ایک سے دو ماہ تک میلاٹونن کا استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے تاہم اس کے طویل اثرات پر بہت کم تحقیق موجود ہے۔

احتیاط کی ضرورت

آسٹریلیا میں بچوں میں میلاٹونن کے زیادہ استعمال کے واقعات نے بھی اس کی حفاظت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوا قدرتی ہارمون پر مبنی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے خطرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔