Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

طبی معاملات میں مصنوعی ذہانت: مریضوں کے لیے مفید یا خطرناک؟

اوپن اے آئی نے حال ہی میں چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ نامی نیا پروگرام پیش کیا ہے۔

واشنگٹن: ٹیکنالوجی کمپنیاں اب خاص طور پر طبی سوالات کے جواب دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس متعارف کروا رہی ہیں۔

اوپن اے آئی نے حال ہی میں چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ نامی نیا پروگرام پیش کیا ہے جو مریضوں کے میڈیکل ریکارڈز اور ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے صحت سے متعلق سوالات کے جواب دے سکتا ہے۔

یہ بوٹس کیا کرسکتے ہیں؟

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام ڈاکٹر کا متبادل نہیں بلکہ مریضوں کی مدد کے لیے ہیں۔ یہ پیچیدہ ٹیسٹ رپورٹس کو سمجھا سکتے ہیں، ڈاکٹر سے ملاقات کی تیاری میں مدد دے سکتے ہیں اور میڈیکل ریکارڈز میں چھپے اہم رجحانات کو اجاگر کرسکتے ہیں۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر رابرٹ واچٹر کا کہنا ہے کہ یہ ٹولز گوگل سرچ سے بہتر ہیں کیونکہ یہ زیادہ ذاتی نوعیت کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ مریض چیٹ بوٹس کو زیادہ سے زیادہ تفصیلات دیں تاکہ بہتر جواب مل سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری یا شدید سر درد جیسی علامات پر چیٹ بوٹس سے رجوع کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

پرائیویسی کا مسئلہ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کی گئی طبی معلومات قوانین کے تحت محفوظ نہیں ہیں جو ڈاکٹروں اور اسپتالوں پر لاگو ہوتے ہیں۔

اوپن اے آئی اور اینتھروپک کا دعویٰ ہے کہ وہ صارفین کی طبی معلومات کو الگ رکھتے ہیں اور انہیں ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

تحقیق میں خامیاں

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ اے آئی چیٹ بوٹس تحریری صورت حال میں 95 فیصد درست تشخیص کرسکتے ہیں لیکن حقیقی لوگوں کے ساتھ بات چیت میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مریض اکثر چیٹ بوٹس کو ضروری معلومات نہیں دیتے اور اے آئی کی طرف سے دی گئی اچھی اور بری معلومات میں فرق نہیں کرپاتے۔

ڈاکٹر واچٹر کا کہنا ہے کہ چیٹ بوٹس سے ملنے والی معلومات پر اعتماد بڑھانے کے لیے مختلف بوٹس سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ وہ خود بھی چیٹ جی پی ٹی اور گوگل جیمنی میں معلومات ڈال کر دیکھتے ہیں اور جب دونوں کا جواب ایک جیسا ہوتا ہے تو زیادہ اعتماد محسوس کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ٹولز کو احتیاط اور سمجھداری سے استعمال کرنا چاہیے، خاص کر صحت سے متعلق اہم فیصلوں میں صرف چیٹ بوٹس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں