Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

روزے میں پیاس سے بچنے کیلئے سحری میں یہ غذائیں ضرور شامل کریں

سحری کے وقت 2 سے 3 گلاس پانی آہستہ آہستہ پیا جائے

رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے دوران جسم کو ہائیڈریٹ اور توانا رکھنا نہایت اہم ہے، کیونکہ طویل وقت تک کھانے پینے سے گریز جسمانی کمزوری اور پانی کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

 ماہرین کے مطابق سحری میں درست غذا اور مناسب مقدار میں پانی کا استعمال دن بھر پیاس اور تھکن کم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سحری کے وقت 2 سے 3 گلاس پانی آہستہ آہستہ پیا جائے۔ ایک دم زیادہ پانی پینے کے بجائے وقفے وقفے سے چھوٹے گھونٹ لینا زیادہ مفید ہوتا ہے، تاکہ جسم بہتر انداز میں پانی جذب کر سکے۔

ناریل پانی بھی ایک اچھا انتخاب ہے کیونکہ اس میں قدرتی الیکٹرولائٹس موجود ہوتے ہیں جو جسم میں پانی کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں، اسی طرح دودھ یا کم چکنائی والے دہی سے تیار کردہ اسموتھی توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پیاس کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

اسموتھی میں کیلا، کھجور یا بھیگے ہوئے چیا سیڈز شامل کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ چیا سیڈز پانی جذب کرکے جیل جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو جسم میں نمی کو دیر تک برقرار رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ لیموں پانی یا سادہ لسی بھی مفید مشروبات میں شامل ہیں، تاہم ان میں شکر کی مقدار کم رکھنا ضروری ہے۔ ہلکا سا نمک ملا لیموں پانی الیکٹرولائٹ بیلنس برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ پودینہ یا تلسی کے پتوں سے تیار ہربل ڈرنک تازگی کا احساس دلاتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ زیادہ میٹھے مشروبات سے پرہیز کیا جائے کیونکہ زائد شکر دن میں پیاس بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح چائے اور کافی جیسے کیفین والے مشروبات بھی کم استعمال کرنے چاہئیں، کیونکہ یہ جسم سے پانی کے اخراج میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

خوراک کے انتخاب میں نمکین، مصالحہ دار اور تلی ہوئی اشیا سے گریز بہتر ہے کیونکہ یہ پیاس کو بڑھا سکتی ہیں۔

 اس کے برعکس اوٹس، دلیہ، مکمل اناج، انڈے، سبزیاں اور پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، کھیرا اور سنگترہ سحری میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذا توانائی کو بتدریج جاری رکھتی ہے، جس سے دن بھر کمزوری اور پیاس کا احساس نسبتاً کم ہوتا ہے۔