Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ماں بننے سے دماغی صلاحیتیں بڑھ جاتی ہیں؟ نئی تحقیق میں انکشاف

دوسری حمل کے دوران عورت کے دماغ میں منفرد تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو پہلے حمل سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دوسری حمل کے دوران عورت کے دماغ میں منفرد تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو پہلے حمل سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔

ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے 30 خواتین کے دماغی اسکینز کا جائزہ لیا جو دوسرے حمل سے گزر رہی تھیں۔ ان کا موازنہ پہلے حمل والی 40 خواتین اور ان 40 خواتین سے کیا گیا جو کبھی زچکی کے عمل سے نہیں گزری۔

نتائج سے پتا چلا کہ دوسری حمل کے دوران دماغ کے نیٹ ورک میں تبدیلیاں آتی ہیں لیکن یہ پہلے حمل جیسی نمایاں نہیں ہوتیں۔ دوسری حمل میں سب سے بڑی تبدیلیاں دماغ کے ان حصوں میں دیکھی گئیں جو بصری اور آوازی محرکات پر ردعمل دیتے ہیں اور توجہ کو مرکوز کرتے ہیں۔

دماغی مادے میں کمی

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ پہلے اور دوسرے حمل دونوں میں دماغ کے گرے مادے میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ کمی دماغی تنزلی کی علامت نہیں بلکہ نیوروپلاسٹیٹی میں اضافے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وہی عمل ہے جو نوعمری کے دوران دماغ میں رونما ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دوسری حمل کے دوران دماغ میں زیادہ تبدیلیاں ان نیٹ ورکس میں ہوتی ہیں جو حسی محرکات پر ردعمل اور توجہ مرکوز کرنے سے منسلک ہیں۔ یہ عمل متعدد بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

محققہ میلؤسٹراتھوف کا کہنا ہے کہ دوسری حمل کے دوران دماغ زیادہ نمایاں طور پر ان نیٹ ورکس میں تبدیل ہوتا ہے جو حسی محرکات پر ردعمل اور توجہ مرکوز کرنے میں شامل ہیں۔

دماغی صحت سے تعلق

تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ دماغی تبدیلیاں ماں اور بچے کے تعلق اور نفلی ڈپریشن سے بھی منسلک ہوسکتی ہیں۔ محققہ ایلسلین ہوکزما کا کہنا ہے کہ یہ علم ماؤں میں ذہنی صحت کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں خواتین کی تعداد محدود تھی تاہم یہ حمل کے دوران عورت کے دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے۔