آج کی طرح قدیم زمانے میں بھی لوگ لمبی اور صحت مند زندگی گزارنے کے خواہاں تھے۔ یونانی اور رومی ڈاکٹروں نے اس حوالے سے اہم مشاہدات اور نسخے تحریر کیے ہیں جو آج بھی قابل عمل ہیں۔
دوسری صدی عیسوی میں رہنے والے مشہور یونانی ڈاکٹر جالینوس نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو بڑی عمر تک زندہ رہے۔ ان میں سے دو ایسے افراد تھے جنہیں وہ خود جانتے تھے۔
ٹیلیفس کا معمول
ٹیلیفس نامی ایک گرامر کے استاد تقریباً 100 سال زندہ رہے اور وہ دن میں تین بار کھانا کھاتے تھے۔ ان کی خوراک سادہ تھی، پہلے کھانے میں وہ شہد ملا ہوا دلیہ کھاتے جب کہ دوپہر کو سبزیاں اور مچھلی کھاتے۔ شام کو صرف روٹی کھاتے جو شراب میں بھگوئی ہوتی۔
ان کا غسل کا طریقہ بھی منفرد تھا۔ وہ سردیوں میں مہینے میں صرف دو بار اور گرمیوں میں چار بار غسل کرتے جب کہ باقی دنوں میں زیتون کے تیل سے مالش کرواتے۔
اینٹیوکس کا معمول
اینٹیوکس نامی ایک بوڑھے ڈاکٹر 80 کی دہائی تک زندہ رہے۔ وہ صبح شہد کے ساتھ روٹی کھاتے۔ دوپہر کو مچھلی کھاتے اور رات کو دلیہ یا گوشت کھاتے تھے۔
اینٹیوکس ہر صبح سیر کو جاتے اور رات میں کرسی پر بیٹھ کر شہر کا چکر لگایا کرتے تھے۔ یونانی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ بوڑھوں کے لیے مناسب ورزش بھی کرتے تھے۔
مشترکہ عادات
یونانی ڈاکٹر نے ان دونوں کی عادات کا تقابل کیا تو معلوم ہوا کہ وہ دن میں صرف چند بار کھانا کھاتے تھے۔ ان کی خوراک جنگلی گوشت، اناج، روٹی اور شہد پر مشتمل تھی جب کہ وہ روزانہ متحرک رہتے تھے۔
لوسیان کا مشورہ
دوسری صدی عیسوی کے یونانی مصنف لوسیان کا کہنا ہے کہ جو لوگ مناسب ورزش اور صحت بخش خوراک پر عمل کرتے ہیں وہ لمبی زندگی گزارتے ہیں۔
ان کا مشورہ ہے کہ اگر ہم لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کے طرز زندگی کی نقل کرنی چاہیے جو ایسی زندگی گزار چکے ہیں۔
یونانی مصنف نے اپنے مضمون میں یہ بھی لکھا کہ ہر جگہ اور ہر موسم میں لوگ مناسب ورزش اور صحت بخش خوراک سے لمبی زندگی گزار سکتے ہیں۔
یہ قدیم نسخے آج بھی اتنی صدیوں بعد بھی صحت مند زندگی گزارنے کے لیے رہنما اصول ہیں۔




















