رمضان المبارک کے روزے اپنی روحانی برکات اور عبادت کے پہلو سے تو بے حد اہم ہیں ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے انسانی جسم پر بھی کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایک روزے دار شخص ان جسمانی تبدیلیوں کو بخوبی محسوس کرسکتا ہے جو روزہ رکھنے کے دوران جسم میں رونما ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق روزہ انسان میں صبر و شکر کی کیفیت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔ روزہ قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے، مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے اور اگر سحری اور افطار میں اعتدال رکھا جائے تو یہ وزن کم کرنے اور دل سمیت دیگر اہم اعضا کو صحت مند رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق روزہ رکھنے کے دوران انسانی جسم میں ایسے عمل شروع ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں کمزور یا خراب خلیات ختم ہونے لگتے ہیں اور جسم خود کو بہتر بنانے کے عمل سے گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے روزے کے دوران جسم مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔
پہلے اور دوسرے روزے
رمضان کے ابتدائی دنوں میں جسم میں بلڈ شوگر کی سطح کم ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کے باعث دل کی دھڑکن نسبتاً سست اور بلڈ پریشر میں کمی آ سکتی ہے۔ روزہ شروع ہونے کے تقریباً آٹھ گھنٹے بعد معدے میں موجود خوراک مکمل طور پر ہضم ہو جاتی ہے اور اس کے بعد جسم جگر اور پٹھوں میں ذخیرہ شدہ گلوکوز استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب یہ ذخائر کم ہو جائیں تو جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے چربی کو استعمال کرنے لگتا ہے۔
اس مرحلے پر بعض افراد کو سر درد، ہلکا چکر، منہ کی بو یا زبان پر میل جیسی علامات بھی محسوس ہو سکتی ہیں، جو دراصل جسم سے فاسد مادوں کے اخراج کے ابتدائی آثار ہوتے ہیں۔
تیسرے سے ساتویں روزے تک
اس دوران جسم آہستہ آہستہ روزے کا عادی ہونے لگتا ہے۔ جسم میں موجود چربی توانائی میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور نظامِ ہاضمہ کو بھی کچھ آرام ملتا ہے۔ اس مرحلے پر قوتِ مدافعت میں بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے جبکہ بعض افراد کو ہلکی کمزوری یا تھکن کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دوران پانی کا مناسب استعمال نہایت ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی سے بچا جا سکے۔
آٹھویں سے پندرہویں روزے تک
اس مرحلے تک پہنچ کر روزے دار خود کو پہلے سے زیادہ ہلکا اور چست محسوس کرنے لگتا ہے۔ دماغی چستی میں بھی اضافہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔
بعض اوقات پرانی چوٹ یا درد کا احساس دوبارہ ہو سکتا ہے کیونکہ جسم کا دفاعی نظام زیادہ فعال ہو جاتا ہے اور جسم خود کو بہتر بنانے کے عمل میں مصروف ہوتا ہے۔
سولہویں روزے سے رمضان کے اختتام تک
اس مرحلے تک جسم بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا عادی ہوچکا ہوتا ہے، نظامِ ہاضمہ بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے اور جسم میں جمع اضافی چربی اور فاسد مادے کافی حد تک خارج ہو چکے ہوتے ہیں۔ روزے دار خود کو زیادہ چست اور توانا محسوس کرتا ہے جبکہ ذہنی توجہ اور یادداشت میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق روزے کے ان تمام فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ سحری اور افطار میں اعتدال اختیار کیا جائے۔ تلی ہوئی اور مرغن غذاؤں کے بجائے پھل، سبزیاں، دودھ اور دہی جیسی صحت بخش غذا استعمال کی جائے جبکہ زیادہ کھانے سے گریز کیا جائے۔
اگر روزہ اعتدال اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ رکھا جائے تو یہ نہ صرف روحانی طور پر انسان کو مضبوط بناتا ہے بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد فراہم کرتا ہے۔




















