قومی اسمبلی نے لازمی تھیلیسمیا اسکریننگ بل 2025 منظور کر لیا ہے، جس کے تحت شادی سے پہلے میاں اور بیوی کا تھیلیسمیا ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا۔
بل کے مطابق، اگر کوئی نکاح خواں تھیلیسمیا ٹیسٹ کے بغیر نکاح رجسٹر کرتا ہے تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد ہوگا۔
یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے پیش کیا تھا، جبکہ جمعیت علماء اسلام کی رکن نعیمہ کشور کی ترمیم مسترد کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: اب تھیلیسیمیا کے مریضوں میں متعدد بار خون کی منتقلی کی ضرورت نہیں، تحقیق
قومی اسمبلی کا مقصد اس بل کے ذریعے تھیلیسمیا کے پھیلاؤ کو روکنا اور شادی سے پہلے جوڑے کی صحت کا بہتر انداز میں جائزہ لینا ہے تاکہ نئے نسل میں اس بیماری کے امکانات کم سے کم ہوں۔
پاکستان میں تھیلیسیمیا کی صورتحال
پاکستان میں تھیلیسیمیا ایک سنگین موروثی جنیاتی خون کی بیماری کے طور پر ابھرا ہے، جس کی بنیادی وجہ بیٹا تھیلیسیمیا میوٹیشنز ہیں۔ ملک میں اس وقت اندازاً 100,000 سے 120,000 بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں جنہیں زندہ رہنے کے لیے عمر بھر خون لگوانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اعداد و شمار اور پھیلاؤ
ہر سال تقریباً 5,000 سے 8,000 نئے بچے اس موذی مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان کی 5 سے 7 فیصد آبادی (تقریباً 10 سے 13 ملین افراد) اس بیماری کے خاموش حامل (Carriers) ہیں، جنہیں خود تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی لیکن وہ یہ مرض اگلی نسل میں منتقل کر سکتے ہیں۔
بنیادی وجہ
ملک میں خاندانی شادیوں (Cousin Marriages) کا بلند تناسب (تقریباً 60 سے 70 فیصد) اس مرض کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔




















