غذائی ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں ’’فائبر مکسنگ‘‘ نامی ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں لوگوں کو روزانہ ضروری مقدار میں فائبر کھانے کی ترغیب دی جاتی ہے جوکہ سائنسدانوں کے مطابق صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔
ٹفٹس یونیورسٹی کے ماہر جینیفر لی کے مطابق فائبر ہاضمے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے استعمال سے دل کی بیماری، ذیابیطس، موٹاپے اور بعض اقسام کے کینسر جیسے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
فائبر مکسنگ کیا ہے؟
یہ دراصل روزانہ فائبر کی مطلوبہ مقدار پوری کرنے کی کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد روزانہ کی ضرورت کے مطابق فائبر نہیں کھا پاتے۔ امریکی غذائی رہنما اصولوں کے مطابق بالغ افراد کو عمر اور جنس کے لحاظ سے روزانہ 22 سے 34 گرام فائبر کھانا چاہیے۔
فائبر کی اقسام
ماہرین کے مطابق فائبر کی دو اہم اقسام ہیں، حل پذیر اور غیر حل پذیر۔ حل پذیر فائبر پانی میں گھل کر جیل جیسا مادہ بناتا ہے جو ہاضمے کو سست کرتا ہے اور پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یہ سیب، کیلے، ایوکاڈو، بروکلی، پھلیاں اور جئی میں پایا جاتا ہے۔
غیر حل پذیر فائبر پانی میں نہیں گھلتا اور جسم توانائی کے لیے اسے استعمال نہیں کرسکتا۔ یہ قبض سے بچاتا ہے اور آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے۔ سارا اناج، گریاں اور بیج اس کی اچھی مقدار رکھتے ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ کی مقدار میں تقریباً دو تہائی غیر حل پذیر اور ایک تہائی حل پذیر فائبر ہونا چاہیے۔
احتیاط
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر کی مقدار آہستہ آہستہ بڑھانی چاہیے۔ اچانک زیادہ فائبر کھانے سے قبض یا دست کی شکایت ہوسکتی ہے۔ پانی کا مناسب استعمال بھی ضروری ہے۔
اگر خوراک سے مطلوبہ فائبر نہ مل سکے تو سپلیمنٹس بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں تاہم ماہرین سے مشورہ ضروری ہے۔




















