کئی دہائیوں سے موٹاپے کا علاج بہت محدود تھا اور ڈاکٹر ورزش، کیلوری کم کرنے اور صبر کی تلقین کرتے تھے۔ مریض کوشش کرتے لیکن وزن واپس آجاتا لیکن اب سائنس نے ثابت کیا ہے کہ موٹاپا صرف قوت ارادی کا مسئلہ نہیں بلکہ جسمانی حیاتیات سے جڑا ہوا ہے۔
جی ایل پی ون ہارمون پر مبنی نئی دوائیں وزن کم کرنے کا طریقہ بدل رہی ہیں۔ یہ ادویات ہاضمہ سست کرتی ہیں اور دماغ کو پیٹ بھرنے کا اشارہ دیتی ہیں۔ مریض جلدی آسودہ محسوس کرتے ہیں اور خود بخود کم کھاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 1975 سے اب تک موٹاپے کی شرح تین گنا بڑھ چکی ہے۔ 2022 تک 89 کروڑ بالغ افراد موٹاپے کا شکار تھے۔ روایتی طریقوں سے وزن کم کرنے کے بعد جسم کا میٹابولزم سست ہوجاتا ہے اور بھوک کے سگنل تیز ہوجاتے ہیں۔ یہ ارتقائی دفاعی طریقہ کار ہے۔
نئی دواؤں نے اس مسئلے کو حل کردیا ہے۔ کلینکل ٹرائلز میں مریضوں کا 15 سے 20 فیصد وزن کم ہوا ہے اور کچھ تجرباتی ادویات 30 فیصد تک وزن کم کرسکتی ہیں۔ یہ وہ سطح ہے جو پہلے صرف سرجری سے ممکن تھا۔
تاہم ان ادویات کے مضر اثرات بھی ہیں جیسے متلی، آنتوں کے مسائل اور پتے کی بیماری۔ طویل المعیاد حفاظت پر تحقیق جاری ہے جب کہ قیمت بھی اس میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ 2025 تک یہ ادویات ماہانہ سیکڑوں ڈالر میں فروخت ہورہی تھیں۔
2026 سے 2030 کے درمیان ان ادویات کے پیٹنٹ ختم ہوجائیں گے جس سے سستے جنرک ورژن آسکیں گے۔ برازیل، چین اور انڈیا کی دواساز کمپنیاں پہلے سے تیاری کررہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوائیں دائمی بیماریوں کے علاج کا طریقہ بدل سکتی ہیں جو موٹاپا ذیابیطس، فیٹی لیور، ہائی بلڈ پریشر اور کینسر کی جڑ ہے۔ پہلے وزن کم کریں تو باقی مسائل خود حل ہوسکتے ہیں۔




















