امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا مصنوعی پولیمر تیار کیا ہے جو کینسر پیدا کرنے والے خطرناک پروٹینز کو تباہ کرسکتا ہے۔
قدرتی سائنس کے جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق پروفیسر نیتھن گیانیسکی کی قیادت میں محققین نے ’’ہائیڈریکس‘‘ نامی پولیمر تیار کیے ہیں جو جسم میں موجود مخصوص پروٹینز کو نشانہ بناکر انہیں ختم کردیتے ہیں۔
اس تحقیق میں محققین نے دو ایسے پروٹینز کو نشانہ بنایا ہے جو کینسر کی متعدد اقسام کا سبب بنتے ہیں – مائی سی اور کے آر اے ایس۔
یہ پروٹینز کیوں خاص ہیں؟
مائی سی پروٹین کئی اقسام کے کینسر کا سبب بنتا ہے لیکن اس کی ساخت بے ترتیب ہے جس کی وجہ سے اسے نشانہ بنانا بے حد مشکل ہے۔ دوسری طرف کے آر اے ایس کی ساخت اور ہموار سطح بھی اسے دواؤں کے لیے مشکل ہدف بناتی ہے۔
پروفیسر گیانیسکی کہتے ہیں کہ ’’مائی سی ایک پیچیدہ پروٹین ہے جو عام طور پر ہمارے خلیوں میں موجود رہتا ہے اور ہمارے ٹشوز کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ مسئلہ دراصل ہم انسانوں کو اس بے ترتیب ساخت کو سمجھنے میں ہوتا ہے‘‘۔
یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
محققین نے پولیمر کے ساتھ خاص پیپٹائڈز منسلک کیے ہیں جو انگلیوں کی طرح مطلوبہ پروٹینز کو پکڑلیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ پولیمر خلیے میں موجود ڈیگریڈیشن سسٹم کو فعال کرتے ہیں جو ان پروٹینز کو تلف کردیتا ہے۔
پروفیسر گیانیسکی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے عملی شکل دینے میں وقت لگے گا تاہم انہوں نے گزشتہ سال گروو بائیو فارما نامی کمپنی قائم کی ہے جو اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بناکر علاج میں تبدیل کرنے پر کام کررہی ہے۔




















