دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس کھلونوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بات کرنے والے روبوٹ، اسمارٹ گڑیا اور انٹرنیٹ سے منسلک تعلیمی کھلونے بچوں کے لیے دلچسپ اور تعلیمی تجربہ فراہم کرتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ کھلونے مکمل طور پر محفوظ نہیں اور والدین کو ان کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی والے کچھ کھلونے بچوں کی تعلیم میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ کھلونے بچوں کو زبان سیکھنے، ریاضی سمجھنے اور کہانیاں سننے یا بنانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرایکٹو نظام کے باعث بچے سوال پوچھ سکتے ہیں اور کھلونا فوری جواب دیتا ہے، جس سے کھیل کا عمل زیادہ دلچسپ اور تعلیمی بن جاتا ہے۔ بعض کھلونے بچوں کو مسائل حل کرنے اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھی شامل کرتے ہیں۔
تاہم اس کے ساتھ ہی کئی خطرات بھی موجود ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی پرائیویسی اور ڈیٹا کا تحفظ ہے۔ بہت سے اے آئی کھلونوں میں مائیکروفون، کیمرہ یا انٹرنیٹ کنیکشن موجود ہوتا ہے جو بچوں کی آواز، گفتگو اور رویے سے متعلق معلومات جمع کر سکتا ہے۔ اگر یہ ڈیٹا مناسب طریقے سے محفوظ نہ ہو تو ہیکنگ یا غلط استعمال کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طبی فیصلوں میں مصنوعی ذہانت مریضوں کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوسکی، تحقیق
تحقیقی رپورٹس کے مطابق بعض اے آئی کھلونوں کے تقریباً 27 فیصد جوابات بچوں کے لیے نامناسب بھی پائے گئے ہیں، جن میں خطرناک یا غیر مناسب موضوعات شامل تھے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ کھلونے بچوں میں جذباتی وابستگی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں، جس کے باعث بچے انہیں حقیقی دوست سمجھنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال سے بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ماضی میں ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں جن میں اے آئی کھلونوں کی چیٹ یا ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک ہو گیا، جس سے بچوں کی ذاتی معلومات سامنے آگئیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کے لیے اے آئی کھلونے خریدتے وقت ان کی سیکیورٹی، پرائیویسی پالیسی اور عمر کے مطابق مواد کا خاص طور پر جائزہ لیں اور بچوں کے استعمال کی نگرانی بھی کرتے رہیں۔



















