برطانیہ کے بائیو بینک کے خفیہ صحت کے ریکارڈ متعدد بار انٹرنیٹ پر لیک ہوئے، جس سے مریضوں کے ڈیٹا کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
برطانوی اخبار کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یو کے بائیو بینک میں پانچ لاکھ برطانوی رضاکاروں کے طبی ریکارڈ محفوظ ہیں اور یہ دنیا کے سب سے بڑے صحت کے ڈیٹا ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔
اس منصوبے کی بدولت کینسر، ڈیمنشیا اور ذیابیطس سے متعلق کئی اہم سائنسی پیش رفتیں ہو چکی ہیں۔ تاہم تحقیقات سے پتا چلا کہ اس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے والے بعض محققین نے اسے غیر ارادی طور پر آن لائن اپ لوڈ کر دیا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ بعض ڈیٹا فائلوں میں نام یا پتے شامل نہیں تھے، مگر اس کے باوجود ان میں لاکھوں مریضوں کی بیماریوں کی تفصیلات اور علاج کی تاریخیں موجود تھیں۔
ایک فائل میں تقریباً چار لاکھ تیرہ ہزار افراد کے اسپتال کے تشخیصی ریکارڈ اور ان کی تاریخیں درج تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی معلومات کسی فرد کی شناخت تک پہنچنے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ؛ مردہ خاتون سے عطیہ کردہ رحم سے بچے کی پیدائش
اخبار نے ایک رضاکار کی رضامندی سے اس کے ریکارڈ کی شناخت کی جانچ بھی کی۔ صرف اس کی پیدائش کے مہینے اور سال اور ایک بڑی سرجری کی تاریخ کی مدد سے اس کا ممکنہ طبی ریکارڈ تلاش کیا گیا، جس سے ماہرین نے ڈیٹا کی حفاظت پر تشویش ظاہر کی۔
ایک ڈیٹا ایکسپرٹ نے اس صورتحال کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے دور میں مختلف معلومات کو ملا کر کسی کی شناخت معلوم کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
یو کے بائیو بینک نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محققین کو شناخت ظاہر کرنے والی معلومات جیسے نام اور پتے فراہم نہیں کیے جاتے۔ ادارے کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر سر روری کولنز کے مطابق اب تک کسی رضاکار کی شناخت ظاہر ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
یہ منصوبہ 2003 میں برطانیہ کے محکمہ صحت اور طبی تحقیقی اداروں نے شروع کیا تھا۔ اس میں رضاکاروں کے جینیاتی ڈیٹا، اسکینز، خون کے نمونے اور طرزِ زندگی سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
گزشتہ ماہ حکومت نے اس منصوبے کو رضاکاروں کے جی پی ریکارڈ تک بھی رسائی دے دی تھی۔
تحقیقات کے مطابق ڈیٹا لیک ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سائنسی جرائد اب محققین سے تحقیق کے دوران استعمال ہونے والا کوڈ بھی شائع کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران بعض محققین نے غلطی سے گٹ ہب نامی کوڈ شیئرنگ پلیٹ فارم پر بائیو بینک کے ڈیٹا کے حصے بھی اپ لوڈ کر دیے۔
یو کے بائیو بینک نے ڈیٹا شیئرنگ پر پابندی عائد کرتے ہوئے محققین کے لیے اضافی تربیت بھی متعارف کرائی ہے۔
2025 کے جولائی سے دسمبر کے درمیان بائیو بینک نے گٹ ہب کو 80 قانونی نوٹس بھیجے تاکہ ڈیٹا ہٹایا جا سکے، جس کے نتیجے میں تقریباً 500 ڈیٹا ریپوزٹریز ہٹا دی گئیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود کچھ ڈیٹا اب بھی مکمل طور پر حذف نہیں کیا جا سکا۔
پرائیویسی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ایک طرف بڑے پیمانے پر صحت کے ڈیٹا سے سائنسی تحقیق کو فروغ دینا مقصود ہے، جبکہ دوسری طرف شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بھی موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس منصوبے نے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر لیکس ظاہر کرتے ہیں کہ اس توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔



















