Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار ذہنی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے، تحقیق

ماہرین کے مطابق بہتر یہ ہے کہ مشکل کام خود کرنے کی عادت ڈالیں

مصنوعی ذہانت نے دنیا کے تمام ہی شعبہ جات میں اپنااجارہ داری قائم کرلی ہے، اور اے آئی سے لیس بہت سے ٹولز آپ کی مدد کرنے کے لیے ہر لمحہ موجود ہیں جیسے چیٹ جی پی ٹی، کلاؤڈاور جمینی، یہ چند سیکنڈ میں کئی ٹاسک انجام دے سکتے ہیں مثلاً ای میل لکھنا، پیغامات بنانا یہاں تک کہ کسی کتاب کا خلاصہ بھی تحریر کرنا یہی وجہ ہے لوگوں کی بڑی تعداد ذہنی طور پر مشکل اور سوچنے والے کام بھی ان ہی ٹولز  سے کروانے لگی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی پر بہت زیادہ انحصار آپ کی سوچ اور ذہنی صلاحیتوں کو کمزور کر سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ خود سوچتے اور معلومات تلاش کرتے ہیں تو ایسی صورت میں دماغ زیادہ فعال رہتا ہے اور آپ چیزوں کو بہتر سمجھتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق کچھ لوگ اے آئی کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے معلومات کو صرف سرسری طور پر دیکھتے ہیں، ذہنی شارٹ کٹس لیتے ہیں، اس طرح کبھی کبھار صارفین میں سستی یا انحصار کا احساس بھی پیدا ہونے لگتا ہے۔

ماہرین نے اس جانب بھی نشاندہی کی کہ مسئلہ صرف اے آئی کا استعمال نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔ آپ روزمرہ زندگی میں جس طرح دوسروں کے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جیسے ڈاکٹر، انجینئر یا اساتذہ سے مشورہ لینا۔ اسی طرح اے آئی بھی مدد کر سکتی ہے، تاہم ہر کام اس کے حوالے نہیں کرنا مناسب نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے لیس کھلونے بچوں کیلئے کتنے محفوظ؟ ماہرین نے خبردار کردیا

یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا دماغ تین طرح کے اہم کام انجام دیتا ہے، معلومات کو سمجھنا، اسے یاد رکھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ دہرانا۔

اگرلوگوں کی بڑی تعداد دماغ استعمال کیے بغیر اپنا کام اے آئی سے کر وائے گی تو اس طرح ذہن کم استعمال ہوگا اور سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگے گی۔

ماہرین کے مطابق بہتر یہ ہے کہ مشکل کام خود کرنے کی عادت ڈالیں، آسان اور تیزتر نتائج دینے والا راستہ ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی محنت کرنا ہمارے دماغ کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

آئندہ جب بھی اے آئی کا استعمال کریں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ آپ اسے صرف مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اگر مصنوعی ذہانت کو مددگار کے طور پر استعمال کریں گے اور اپنی سوچ کو بھی استعمال کرتے رہیں گے تو تب ہی یہ ٹیکنالوجی آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں