عام خیال ہے کہ بیکنگ سوڈا ملے پانی میں پھلوں کو بگھو کر رکھنے سے ان پر کیڑے مار ادویات کے اثرات زائل کرنے میں مدد ملتی ہے، تاہم ماہرین کی رائے اس کے برعکس ہے۔
پھلوں کو کھانے، پکانے یا بیکنگ میں استعمال کرنے سے پہلے دھونا ضروری ہے، لیکن کیا صرف پانی کافی ہے؟ کیا بیکنگ سوڈا سے دھونا زیادہ بہتر ہے؟ اکثر اسے قدرتی طریقہ سمجھا جاتا ہے تاہم اس بارے میں ایک فوڈ سیفٹی ماہر سے بات کی گئی تو معلوم ہوا کہ جواب تھوڑا تفصیل طلب ہے۔
ایمی جانسٹن جو کہ یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں ایکسٹینشن ایجوکیٹر اور فوڈ سیفٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں کا کہنا ہے کہ کچھ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بیکنگ سوڈا اور پانی میں پھل بھگونے سے دو خاص قسم کی کیڑے مار ادویات کے اثرات کم ہو سکتے ہیں، تاہم بھگونے کے کچھ خطرات بھی ہیں۔
ان میں سے ایک خطرہ تھرمل شاک ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب پانی کا درجہ حرارت پھل کے درجہ حرارت سے زیادہ گرم یا زیادہ ٹھنڈا ہو۔ ایسی صورت میں پانی میں موجود بیکٹیریا پھل کے اندر داخل ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ماہرین انہیں دیر تک بھگونے کے بجائے ڈِپ کر کے دھونے کو بہتر سمجھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پھل سے صحت پائیں، چھلکوں سے حسن بڑھائیں
بیکنگ سوڈا سے پھل دھونے کا درست طریقہ
اگر آپ بیکنگ سوڈا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو تقریباً ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا ایک کوارٹ یا ایک گیلن پانی میں ملا لیں۔
بیکنگ سوڈا ہلکے ڈیٹرجنٹ کی طرح کام کرتا ہے اور مٹی یا دوسرے ذرات کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ بیکٹیریا کو ختم نہیں کرتا کیونکہ یہ جراثیم کش نہیں ہے۔
پھل کو اس محلول میں چند سیکنڈ کے لیے ڈبوئیں، ہلکے سے ہلائیں یا ملیں، پھر اچھی طرح ٹھنڈے بہتے پانی سے دھو لیں۔ پھل کو زیادہ دیر تک محلول میں نہ چھوڑیں کیونکہ اس سے تھرمل شاک یا ذائقے اور ساخت میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
بیکنگ سوڈا اور صرف پانی سے دھونے کا موازنہ
بیکنگ سوڈا میں ہلکا سا جھاگ بنتا ہے جس سے چھوٹے بلبلے بنتے ہیں، جو پانی کے ساتھ مل کر مٹی یا کیڑے مار ادویات کے اثرات کو صاف کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود زیادہ تر پھلوں کے لیے ٹھنڈے بہتے پانی سے دھونا اب بھی مؤثر اور سائنسی طور پر ثابت شدہ طریقہ ہے۔
مختلف پھلوں کے لیے مشورے
سیب اور ناشپاتی
یہ ہموار چھلکے والے پھل ہیں، اس لیے انہیں بیکنگ سوڈا کے محلول میں مختصر وقت کے لیے ڈبو کر دھونا مناسب ہے۔ بیکنگ سوڈا سے کیڑے مار ادویات ہٹانے کی تحقیق بھی زیادہ تر سیب پر کی گئی ہے۔
انگور
چونکہ انگور گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں، اس لیے انہیں چھلنی میں رکھ کر بیکنگ سوڈا کے محلول میں ہلکے سے ہلائیں، پھر ٹھنڈے پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔
کیلے
کیونکہ کیلے کا چھلکا نہیں کھایا جاتا، اس لیے چھلکا اتارنے سے پہلے صرف پانی سے دھونا کافی ہے۔
خربوزے
چونکہ خربوزے کی بیرونی سطح پر موجود بیکٹیریا کاٹنے کے وقت اندر منتقل ہو سکتے ہیں، اس لیے پورے خربوزے کو ہمیشہ ٹھنڈے بہتے پانی سے دھوئیں۔ ضرورت ہو تو برش بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بیکنگ سوڈا استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر زیادہ دیر تک نہ بھگوئیں۔
بیریز (اسٹرابیری، بلیوبیری، رسبیری)
ان کا چھلکا نرم اور مسام دار ہوتا ہے، اس لیے انہیں زیادہ دیر بھگونے سے گریز کریں، کیونکہ یہ پانی کو جذب کر سکتے ہیں جس سے بیرونی تہہ خراب ہو سکتی ہیں اس لیے اسے ٹھنڈے بہتے ہوئے پانی سے دھونا ہی کافی ہے۔




















