Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مکس ورزشیں زندگی طول دینے میں مددگار، نئی تحقیق میں انکشاف

محققین نے نرسز کی ہیلتھ اسٹڈی اور ہیلتھ پروفیشنلز کی فالو اپ اسٹڈی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا

حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف قسم کی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا زندگی کی مدت بڑھانے کے لیے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے لیے محققین نے نرسز کی ہیلتھ اسٹڈی اور ہیلتھ پروفیشنلز کی فالو اپ اسٹڈی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس میں 111,000 سے زیادہ شرکاء شامل تھے، جن کی جسمانی سرگرمیوں کا 30 سال سے زیادہ عرصے میں جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے شرکاء سے ان کی مشغولیت کے بارے میں سوالات کیے گئے، جن میں شامل تھے:

کارڈیو سرگرمیاں: چلنا، دوڑنا، سائیکلنگ، روئنگ، ٹینس اور تیراکی

ہلکی شدت کی ورزشیں: یوگا، کھچاؤ، اور ٹوننگ

وزنی یا مزاحمتی ورزش

شدید سرگرمیاں: لان کٹائی وغیرہ

معتدل بیرونی سرگرمیاں: باغبانی وغیرہ

شدت کی بیرونی سرگرمیاں: کھدائی اور لکڑی کاٹنا وغیرہ

تحقیق کے اہم نتائج

زیادہ تر جسمانی سرگرمیاں، سوائے تیراکی کے، موت کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک پائی گئیں۔

مزید پڑھیں: ماہرین کی وارننگ: برین ہیلتھ سپلیمنٹس پر یقین نہ کریں

ورزش کی مقدار بڑھانے سے فائدہ ایک حد کے بعد کم ہو جاتا ہے؛ یعنی لامحدود ورزش سے خطرہ صفر نہیں ہوتا۔

شرکاء جو مختلف ورزشوں میں حصہ لیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ تقریباً 19% کم اور دل، سانس، کینسر اور دیگر بیماریوں سے موت کا خطرہ 13-14% کم پایا گیا۔

ماہرین کا موقف

محقق ذیشان خان نے کہا کہ یہ تحقیق تصدیق کرتی ہے کہ مختلف قسم کی ورزشیں زندگی بڑھانے میں اہم ہیں، حجم کے برابر اہمیت رکھتی ہیں۔

اسپورٹس میڈیسن کے ماہر مینڈل بوم نے کہا کہ عمر کے ساتھ جسمانی فعالیت کو بڑھانے کے لیے ہمیں ڈیکاتھلون ایتھلیٹ کی طرح مختلف ورزشیں کرنا ہوں گی، جیسے بیلنس، طاقت، ریزسٹنس، وزن کے ساتھ ورزش، دوڑ، سائیکلنگ اور تیراکی سب کا ملا جلا اثر ہوتا ہے۔

تحقیق کے اگلے مراحل

ماہرین نے کہا کہ خاص طور پر بوڑھے افراد میں ورزش کی اقسام اور اثرات کا مطالعہ ضروری ہے۔ ہر ورزش کے مختلف اجزاء جیسے وزن کا لوڈ اور ریکوری کی مدت کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

خلاصہ

زندگی طول دینے کے لیے صرف ورزش کی مقدار کافی نہیں، بلکہ متنوع جسمانی سرگرمیاں لینا زیادہ فائدہ مند ہے۔ مختلف ورزشیں جسمانی صحت کے مختلف پہلوؤں کو بہتر بناتی ہیں، جس سے مجموعی طور پر طویل اور صحت مند زندگی ممکن ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں