پروٹین پاؤڈر کو دودھ میں شامل کرنا آسان اور صحت بخش لگتا ہے کیونکہ پروٹین جسم میں پٹھوں، ہڈیوں اور دیگر افعال کے لیے ضروری ہے۔
تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چاکلیٹ یا ونیلا پروٹین پاؤڈر بعض اوقات صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
پروٹین پاؤڈر پودوں، انڈوں یا دودھ سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس میں اضافی شکر، مصنوعی ذائقہ، وٹامنز، معدنیات یا گاڑھا کرنے والے اجزاء بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ایک اسکُوپ میں تقریباً 10 سے 30 گرام پروٹین ہوتا ہے، اور سپلیمنٹس کی قسم کے حساب سے پروٹین کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پروٹین پاؤڈر استعمال کرنے کے کئی خطرات ہیں۔ یہ غذائی سپلیمنٹ ہونے کی وجہ سے ایف ڈی اے مصنوعات کی حفاظت اور لیبلنگ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا، اس لیے یقین کرنا مشکل ہے کہ پروٹین پاؤڈر میں وہی اجزاء ہیں جو دعویٰ کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا میں ویکسین گائیڈ لائنز میں تبدیلیوں سے ہیلتھ سیکٹرز چیلنجز کا شکار
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی اثرات کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں اور دودھ پر مبنی پروٹین پاؤڈر معدے میں تکلیف بھی پیدا کر سکتا ہے، یہ خاص طور پر لیکٹوز ہضم نہ کرنے والے افراد کے لیے زیادہ نقصان دہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق کچھ پروٹین پاؤڈر میں شکر اور کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو وزن بڑھنے اور بلڈ شوگر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک گلاس دودھ کے ساتھ بعض پروٹین پاؤڈر 1,200 سے زائد کیلوریز فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن خواتین کے لیے 24 گرام اور مردوں کے لیے 36 گرام شکر روزانہ کی حد تجویز کرتی ہے۔
سال 2026 میں کلین لیبل پروجیکٹ نے تحقیق میں 134 پروٹین پاؤڈر مصنوعات میں بھاری دھاتیں، بیسفینول اے (BPA)، کیڑوں مار ادویات اور دیگر کیمیکلز دریافت کیے، جو کینسر اور دیگر صحت کے مسائل سے جڑے ہیں۔ بعض مصنوعات میں BPA کی مقدار حد سے 25 گنا زیادہ پائی گئی۔
ماہر غذائیت کیتھی مک مینوس کے مطابق، کچھ مخصوص حالات میں کیمیکل فری پروٹین پاؤڈر فائدہ مند ہو سکتے ہیں، جیسے کھانے کی دشواری، سرجری یا زخم کی شفا یابی، اور شدید حالت میں اضافی کیلوریز و پروٹین کی ضرورت۔
ورنہ، پروٹین کے لیے قدرتی غذائیں استعمال کریں، جیسے خشک میوہ جات، بیج، کم فیٹ دودھ کی مصنوعات، دالیں، مچھلی، مرغی، انڈے اور کم چکنائی والے گوشت۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی غذاؤں سے پروٹین حاصل کرنا زیادہ محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔




















