طبی ماہرین نے میگنیٹ فلوئیڈ انجیکشن کی صورت میں ایک ایسا علاج دریافت کرلیا ہے جو فالج کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ہے۔
سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ دل کے ایک مخصوص حصے میں میگنیٹ فلوئیڈ انجیکشن کرنے سے فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اُن افراد میں جو ایٹریل فبریلیشن (atrial fibrillation) کے مرض میں مبتلا ہیں۔
ایٹریل فبریلیشن دل کی اوپری خلیوں (atria) کی بے ترتیب دھڑکن کا باعث بنتا ہے، جس سے دل کا خون صحیح طور پر گردش نہیں کر پاتا۔
دل کے اندر ایک چھوٹا سا حصہ، جسے لیفٹ ایٹریل ایپنڈِج (left atrial appendage) کہا جاتا ہے، جو خون کو جمع ہونے اور جمنے کی جگہ فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ خون جم جائے تو چھوٹے چھوٹے کلوٹس بن سکتے ہیں، جو دماغ تک پہنچ کر فالج کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایٹریل فبریلیشن والے افراد میں فالج ہونے کا خطرہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔
موجودہ علاج اور اس کی حدود
فی الحال سب سے عام علاج بلڈ تھنرز (anticoagulants) ہیں، جو خون کے جمنے کی صلاحیت کو کم کرتے ہیں اور فالج کے خطرے کو نمایاں طور پر گھٹاتے ہیں۔ لیکن یہ دوائیں خون بہنے کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں، خاص طور پر بزرگ افراد یا اُن میں جو دیگر بیماریوں جیسے الٹرا، ہائی بلڈ پریشر، جگر یا گردے کی بیماری اور کینسر رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا میں ویکسین گائیڈ لائنز میں تبدیلیوں سے ہیلتھ سیکٹرز چیلنجز کا شکار
کچھ لوگ یہ دوائیں برداشت نہیں کر پاتے یا خون بہنے کی وجہ سے استعمال روکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ایک اور موجودہ طریقہ لیفٹ ایٹریل اپینڈیج اوکلیوژن ہے، جس میں چھوٹا سا آلہ دل کے اس حصے کو بند کرنے کے لیے نصب کیا جاتا ہے۔ یہ آلہ کیتھیٹر کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے اور چھوٹے دھات کے چھتری نما حصے کی طرح پھیل کر دل کے اس حصے کا سوراخ بند کر دیتا ہے۔
تاہم چونکہ ہر مریض کے دل کے اس حصے کا سائز اور شکل مختلف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ سخت دھات کے آلے ہمیشہ اس حصے کو مکمل سیل نہیں کر پاتے، اور کبھی کبھار خون کناروں سے رس سکتا ہے یا آلے کی سطح پر کلوٹس بن سکتے ہیں۔
میگنیٹ فلوئیڈ کا نیا طریقہ
نئے تحقیقی طریقے میں سخت آلہ استعمال کرنے کی بجائے میگنیٹ فلوئیٖڈ کیتھیٹر کے ذریعے دل میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔ جسم کے باہر سے مقناطیسی میدان کی مدد سے یہ سیال جیب میں پوری طرح بھر دیا جاتا ہے، اور خون کے بہاؤ کے باوجود صحیح مقام پر رہتا ہے۔ چند منٹوں میں یہ سیال خون کے پانی کے ساتھ تعامل کر کے نرم میگنیٹوجیل میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو دل کے متاثرہ حصے کو مکمل طور پر بند کر دیتا ہے۔
کیونکہ یہ مواد شروع میں سیال ہوتا ہے، یہ ہر مریض کے دل کے متاثرہ حصے کی غیر ہموار شکل کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے، جس سے روایتی سخت آلے کے مقابلے میں زیادہ مکمل سیل ممکن ہے۔ یہ جیل دل کی اندرونی پرت کے ساتھ جڑ کر ایک ہموار سطح بناتا ہے، جس سے خون کے جمنے کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
ابتدائی نتائج
اب تک یہ طریقہ صرف جانوروں میں آزمایا گیا ہے۔ اس کے تجربات چوہوں اور سور میں تجربات کیے گئے ہیں۔ سوروں میں یہ جیل 10 ماہ تک مستحکم رہا، بغیر کسی خون جمنے یا لیک ہونے کے۔ دل کی اندرونی پرت نے جیل کی سطح پر نمو کی اور مسلسل صحت مند تہہ بنائی۔ روایتی دھات کے آلے کے مقابلے میںمیگنیٹوجیل نے ہموار سطح فراہم کی اور ٹشو کو نقصان پہنچنے سے بچایا۔
سوروں کا دل انسانوں کے دل سے تقریباً مشابہت رکھتا ہے، اس لیے یہ نتائج proof-of-concept کے طور پر اہم ہیں۔
مستقبل کے چیلنجز
ابھی یہ طریقہ تجرباتی مرحلے میں ہے اور انسانی تجربات شروع نہیں ہوئے۔ محققین کو طویل مدتی حفاظت، انجیکشن کے طریقہ کار میں بہتری، اور بڑے جانوروں میں نتائج کی پیش گوئی کی صلاحیت کو ثابت کرنا ہوگا۔ مقناطیسی مواد MRI اسکینز کو متاثر کر سکتا ہے، جسے حل کرنا ضروری ہے۔
اگر یہ طریقہ انسانی دل میں محفوظ اور مؤثر ثابت ہو گیا، تو یہ ان مریضوں کے لیے نیا حل فراہم کر سکتا ہے جو بلڈ تھنرز استعمال نہیں کر سکتے اور موجودہ آلہ جات کی حدود سے بچ سکتے ہیں۔ چونکہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد ایٹریل فبریلیشن میں مبتلا ہیں، تھوڑی سی بہتری بھی عالمی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
نتیجہ
مقناطیسی جیل فی الحال لیبارٹری میں تجرباتی مرحلے میں ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ مواد کی سائنس اور بایومیڈیکل انجینئرنگ میں ترقی دل کی بیماریوں کے خلاف نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔




















