انسانی آنت میں موجود ایک مخصوص مائیکروب پٹھوں کی طاقت بڑھانے میں مدد کرسکتا ہے۔ اسپین کی یونیورسٹی آف گریناڈا کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔
محققین نے 90 نوجوان بالغوں جن کی عمریں (18 سے 25 سال) جب کہ 33 بزرگ افراد جن کی عمریں (65 سال یا اس سے زیادہ تھیں) کے پاخانے کے نمونوں کا جائزہ لیا۔
ان تمام شرکاء کی جسمانی سرگرمی بہت کم تھی۔ ان کی گرفت، ٹانگوں اور اوپری جسم کی طاقت کی پیمائش کی گئی۔
نتائج سے پتا چلا کہ آنت میں پائے جانے والے روزبوریا نامی مائیکروب کا پٹھوں کی طاقت سے گہرا تعلق ہے۔ خاص طور پر روزبوریا انولی نیوورانز نامی جرثومے کی موجودگی سے گرفت، ٹانگوں اور سینے کی طاقت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق جن بزرگ افراد کے پاخانے میں یہ جرثومہ پایا گیا، ان کی گرفت کی طاقت ان لوگوں کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ تھی جن میں یہ جرثومہ نہیں تھا۔ نوجوانوں میں بھی اس جرثومے کی موجودگی سے گرفت کی طاقت اور کارڈیو ریسپریٹری صلاحیت میں اضافہ دیکھا گیا۔
محققین نے اس تعلق کی وجہ جاننے کے لیے چوہوں پر تجربات بھی کیے۔ چوہوں کے آنتوں کے جرثوموں کو ختم کرنے کے بعد انہیں انسانی آنتوں کے جرثومے دیے گئے۔ روزبوریا انولی نیوورانز ملنے والے چوہوں میں پچھلی ٹانگوں کی گرفت کی طاقت 30 فیصد تک بڑھ گئی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ جرثومہ امینو ایسڈ میٹابولزم کو تبدیل کرکے پٹھوں میں فاسٹ ٹوئچ فائبرز کی تعداد بڑھاتا ہے، جس سے پٹھوں کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت پٹھوں کی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے مستقبل میں پروبائیوٹکس تیار کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اس سے بڑھتی عمر میں پٹھوں کی کمزوری سے بچا جا سکے گا۔




















