Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دل میں انجیکشن لگاکر فالج سے بچاؤ؛ سائنسدانوں نے نیا طریقہ دریافت کرلیا

دل کے اندر ایک چھوٹی سی تھیلی ہوتی ہے جسے لیفٹ ایٹریل اپینڈیج کہا جاتا ہے۔

لاکھوں لوگ ایٹریل فیبریلیشن نامی دل کی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں دل کی بالائی تھیلیاں بے ترتیب طور پر دھڑکتی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا خطرہ فالج ہے۔

دل کے اندر ایک چھوٹی سی تھیلی ہوتی ہے جسے لیفٹ ایٹریل اپینڈیج کہتے ہیں۔ جب دل بے ترتیب دھڑکتا ہے تو اس تھیلی میں خون جمع ہوکر جمنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ جمنا اگر دماغ تک پہنچ جائے تو فالج کا باعث بنسکتا ہے۔

ماہرین نے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جس میں مقناطیسی مائع کو دل میں انجیکشن کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے۔ یہ مائع جلد ہی سخت ہوکر جیل میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اس تھیلی کو مستقل طور پر بند کردیتا ہے۔

اس وقت اس طریقے کا تجربہ صرف چوہوں اور خنزیروں پر کیا گیا ہے۔ خنزیروں پر کیے گئے تجربے میں یہ جیل 10 ماہ تک مستقل رہی اور اس سے خون جمنا یا رساؤ نہیں ہوا۔ دل کی اندرونی تہہ جیل کے اوپر اگ آئی جس سے ایک صحت مند تہہ بن گئی۔

موجودہ علاج میں مریضوں کو خون پتلا کرنے والی دوائیں دی جاتی ہیں جو خون جمنا روکتی ہیں لیکن ان کے خون بہنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

دوسرا علاج یہ ہے کہ اس تھیلی میں دھات کا چھوٹا سا آلہ لگادیا جائے لیکن یہ ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہوتا اور بعض اوقات خون کا رساؤ رہ جاتا ہے۔

یہ نیا طریقہ ان دونوں مسائل کا حل ہے۔ یہ مائع شروع میں سیال ہوتا ہے اس لیے یہ ہر مریض کی تھیلی کی شکل کے مطابق ڈھل جاتا ہے اور اس سے مکمل بندش ہوجاتی ہے۔

تاہم یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ انسانی مریضوں پر استعمال سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے مریضوں تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔