ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گرم پانی سے نہانے سے دوڑنے کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے۔
طویل عرصے سے کھلاڑی اونچائی پر تربیت حاصل کرتے رہے ہیں جہاں ہوا میں آکسیجن کم ہوتی ہے۔ اس سے جسم میں خون کے سرخ خلیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے جو آکسیجن لے جانے کی صلاحیت بڑھاتی ہے لیکن یہ تربیت مہنگی اور وقت طلب ہوتی ہے۔
محققین نے اس کا ایک آسان متبادل تلاش کرلیا ہے۔ انہوں نے ایک تجربے میں دوڑنے والوں کو معمول کی تربیت جاری رکھنے کا کہا البتہ پانچ ہفتے تک ہفتے میں پانچ بار 45 منٹ تک 40 ڈگری سیلسیس پانی میں نہانے کا اضافہ کیا۔
نتائج حیران کن رہے اور پانچ ہفتوں کے بعد ان دوڑنے والوں کے خون میں سرخ خلیوں کی تعداد نمایاں طور پر بڑھ گئی۔ جہاں اونچائی پر کم آکسیجن سے یہ اضافہ ہوتا ہے، وہاں گرمی ایک مختلف طریقے سے کام کرتی ہے۔
ایک بار گرم پانی میں نہانے سے خون کا مائع حصہ (پلازما) پھیل جاتا ہے جس سے سرخ خلیے عارضی طور پر پتلا ہوجاتے ہیں۔ جسم اس تبدیلی کو محسوس کرکے زیادہ سرخ خلیے بنانے لگتا ہے۔ نتیجتاً خون کی کل مقدار اور آکسیجن لے جانے کی صلاحیت دونوں بڑھ جاتی ہیں۔
محققین نے دل میں بھی تبدیلی دیکھی۔ تربیت سے دل کا بایاں ویںٹرکل (خون پمپ کرنے والا اہم حصہ) پھیل جاتا ہے۔ گرمی کی وجہ سے خون کی مقدار بڑھنے سے یہ مزید پھیل گیا۔ ان تبدیلیوں سے دوڑنے والوں کی آکسیشن استعمال کرنے کی صلاحیت اوسطاً 4 فیصد بڑھ گئی۔
یہ طریقہ کھلاڑیوں کے لیے آسان اور سستا ہے۔ زیادہ دوڑنے سے چوٹ کا خطرہ رہتا ہے جب کہ گرم پانی سے نہانے سے دل اور دوران خون پر دباؤ تو پڑتا ہے لیکن جوڑوں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے پانی کا درجہ حرارت 40 ڈگری، ہر سیشن 45 منٹ، ہفتے میں پانچ بار اور پانچ ہفتے کا دورانیہ ضروری ہے۔ گرمی سے نمٹتے وقت پانی کی کمی سے بچنا ضروری ہے۔
یہ تحقیق بتاتی ہے کہ کارکردگی بہتر کرنے کے لیے ہمیشہ زیادہ دوڑنا یا بیرون ملک سفر ضروری نہیں، کبھی کبھی آسان طریقے بھی کام کرسکتے ہیں۔




















