ایک انتہائی منفرد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پودوں پر مبنی غذا جسے مائنڈ ڈائیٹ بھی کہاجاتاہے دماغی عمر بڑھنے کی رفتار کو سست کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ غذا مڈیٹرینین اور ڈیش ڈائیٹ کا مجموعہ ہے اور اس کا مقصد دماغی صحت کو بہتر بنانا ہے۔
اس تحقیق میں 1,647 افراد کی غذائی عادات کا 12 سال تک جائزہ لیا گیا۔ ایسے تمام افراد جنہوں مائنڈ ڈائیٹ کا استعمال کیا ان کے دماغی ٹشو خاص طور پر گِرے میٹر جو یادداشت، سوچ اور فیصلہ سازی میں مدد کرتا ہے کو کم نقصان پہنچا اور ان میں دماغی عمر میں 2.5 سال کی سست رفتاری دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کی کتنی تعداد ماؤں کی عمرگھٹا سکتی ہے؟ تحقیق میں اہم انکشاف
مائینڈ ڈائیٹ میں اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپورغذائیں جیسے بیریز اور کچھ پروٹین والے کھانے جیسے مرغی شامل ہوتی ہیں یہ غذائیں دماغی نقصان کو کم کر سکتی ہیں تاہم اس کے برعکس تلے ہوئے کھانے اور غیر صحت مند چکنائیاں دماغی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
اس غذا میں زیادہ تر سبزیاں، پھل، سالم اناج اور کم چکنائی والا دودھ اور اس سے تیار غذائیں شامل ہیں، اور اس سے دماغی زوال اور ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
اگرچہ تحقیق میں کچھ مزید عوامل شامل نہیں کیے گئے، جیسے نیند کی کیفیت یا جینیات، لیکن یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ غذا اور دماغی صحت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید تحقیق سے اس موضوع کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔




















