Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

میٹا رنگ ٹیکنالوجی بریسٹ کینسر کی جانچ کیلیے انقلابی پیش رفت

میٹا رنگ ٹیکنالوجی کے نتیجے میں صرف 10 منٹ میں دوا کی حساسیت کا ٹیسٹ مکمل ہوجاتا ہے

سائنسدانوں نے بریسٹ کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو مریضوں میں دوا کے اثر کو تیزی سے جانچ سکتی ہے۔

چین کی سائنسز اکیڈمی کے ماہرین نے پروفیسر وانگ ہونگزی کی قیادت میں میٹا رنگ نامی بایوسینسر تیار کیا ہے، جو بریسٹ کینسر میں استعمال ہونے والی دوا پیکلیٹیکسل کی حساسیت کو تیزی اور درستگی کے ساتھ شناخت کر سکتا ہے۔

یہ تحقیق بائیوسینسرز اور بائیو الیکٹرونکس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ روایتی ٹیسٹ نہ صرف سست ہوتے ہیں بلکہ زیادہ نمونے بھی درکار ہوتے ہیں، جبکہ میٹا رنگ اس کے برعکس کم وقت اور کم مقدار میں نمونے سے کام کرتا ہے۔

میٹا کیسے کام کرتا ہے؟

یہ بایوسینسر کافی رنگ ایفیکٹ پر مبنی ہے، جس کے ذریعے نینو پارٹیکلز کو خاص انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس سے انتہائی حساس ڈھانچہ بنتا ہے جو مختلف حیاتیاتی ماحول میں بھی درست نتائج دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں ویکسین گائیڈ لائنز میں تبدیلیوں سے ہیلتھ سیکٹرز چیلنجز کا شکار

مزید یہ کہ اس ٹیکنالوجی میں سرفیس انہینسڈ رامن اسپیکٹروس کاپی استعمال کی گئی ہے، جو خلیات کے مالیکیولر فنگر پرنٹس کو پکڑ کر یہ بتاتی ہے کہ کینسر سیلز دوا پر کیسے ردعمل دے رہے ہیں۔

نمایاں نتائج

میٹا رنگ ٹیکنالوجی کے نتیجے میں صرف 10 منٹ میں دوا کی حساسیت کا ٹیسٹ مکمل ہوجاتا ہے، جو 92 فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ نتائج دیتا ہے، اس کے لیے بہت کم مقدار میں بایولوجیکل سیمپل کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس کے لیے لیبلنگ یا سیل کلچر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

اہمیت

یہ ٹیکنالوجی ذاتی نوعیت کے علاج کو ممکن بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے ہر مریض کو اس کی حالت کے مطابق بہترین دوا دی جا سکے گی۔ ماہرین کے مطابق میٹا رنگ مستقبل میں کینسر کے علاج کو زیادہ مؤثر، تیز اور مریض کے مطابق بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔