ڈریکسل یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ وزن کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو روزانہ ایک جیسا کھانا کھانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
محققین نے 112 زیادہ وزن والے افراد کا جائزہ لیا جو ایک منظم وزن کم کرنے کے پروگرام میں شامل تھے۔ 12 ہفتوں کے دوران جن شرکاء نے روزانہ ایک جیسا کھانا کھایا ان کا وزن ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کم ہوا جو مختلف چیزیں کھاتے رہے۔
خاص طور پر جن لوگوں نے ایک جیسا کھانا کھایا ان کا وزن اوسطاً 5.9 فیصد کم ہوا جب کہ مختلف کھانے والوں کا وزن 4.3 فیصد کم ہوا۔ تحقیق کے مطابق روزانہ کی خوراک میں ہر سو کیلوری کے فرق سے وزن کم ہونے کی شرح 0.6 فیصد کم ہوجاتی ہے۔
ماہر نفسیات شارلٹ ہیگرمین کا کہنا ہے کہ آج کے ماحول میں صحت مند غذا برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشش اور ضبط درکار ہے۔
ان کے مطابق کھانے کے حوالے سے روزانہ کے معمولات اس بوجھ کو کم کرسکتے ہیں اور صحت مند انتخاب کو خودکار بناسکتے ہیں۔
یہ تحقیق ان چند مطالعات میں سے ہے جس میں روزانہ کی خوراک کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ کیسے معمول کے مطابق کھانا وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم صحت مند ماحول میں رہتے تو لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اقسام کی خوراک کھانے کا مشورہ دیا جاسکتا تھا لیکن موجودہ ماحول میں بار بار ایک جیسی صحت مند خوراک کھانا زیادہ بہتر ہے، چاہے اس سے غذائی تنوع میں کمی ہی کیوں نہ آئے۔
محققین کا خیال ہے کہ مختلف اقسام کی خوراک انتخاب کے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے جس سے کیلوریز کا حساب لگانا مشکل ہوجاتا ہے جب کہ طے شدہ خوراک میں کیلوریز کا پہلے سے حساب لگایا جاسکتا ہے۔
اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی ہے اور غذائی تنوع کے عمومی فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم یہ وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے ایک آسان طریقہ بتاتی ہے۔




















