جرمنی کی یونیورسٹی آف کونسٹنز کے سائنسدانوں نے خون میں 10 ایسے کیمیائی اشارے (بائیو مارکرز) دریافت کیے ہیں جو بتاسکتے ہیں کہ انسان کی حیاتیاتی عمر اس کی اصل عمر سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے یا آہستہ۔
ہر سال ہم اپنی سالگرہ مناتے ہیں جو کہ ہماری عددی عمر ہے لیکن ہمارے جسم کا اصل بوسیدہ ہونے کا عمل (حیاتیاتی عمر) ہمیشہ اس سے میل نہیں کھاتا۔ سائنسدان طویل عرصے سے حیاتیاتی عمر کو سمجھنے کے آسان اور قابل اعتبار طریقے تلاش کررہے تھے۔
محققین نے 35 سے 74 سال کی عمر کے 3300 افراد کے خون کے نمونوں میں 362 مختلف پیمانوں کا جائزہ لیا۔
شماریاتی ماڈلنگ اور مشین لرننگ کی مدد سے انہوں نے ان میں سے صرف 10 ایسے اشارے منتخب کیے جو حیاتیاتی عمر کا بہترین اندازہ لگاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ فہرستیں بنائی گئیں۔
ان اشاروں میں کیمیائی، جینیاتی، خلیاتی اور مالیکیولر سگنل شامل تھے۔ جب کسی شخص کے خون میں یہ اشارے اس کی اصل عمر سے چھوٹی حیاتیاتی عمر دکھاتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ آہستہ بوڑھا ہورہا ہے اور اگر زیادہ دکھاتے ہیں تو تیزی سے۔
اس ٹیسٹ کی درستگی جانچنے کے لیے سائنسدانوں نے ان لوگوں کے خون کا تجزیہ کیا جو حیاتیاتی لحاظ سے تیزی سے بوڑھے ہوتے ہیں جن میں ڈاؤن سنڈروم کے مریض، سگریٹ نوشی کرنے والے اور ہارمون تھراپی لینے والی خواتین شامل تھیں۔
نتائج سے پتا چلا کہ خون کے اشارے ان کی توقع کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی حیاتیاتی عمر کو ظاہر کررہے تھے۔
تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ ان میں سے بعض اشارے دراصل حیاتیاتی عمر بڑھنے کی وجہ بنتے ہیں، جنہیں ’’ڈرائیور‘‘ کہا گیا جبکہ بعض صرف اس کے ظاہر ہونے کا نشان ہوتے ہیں اور جنہیں ’’بائیسٹینڈر‘‘ کہا گیا ہے۔
محققین کے مطابق یہ خون کا ٹیسٹ نہ صرف کسی شخص کی اصل صحت کا معلوم کرسکتا ہے بلکہ یہ بھی بتاسکتا ہے کہ عمر سے جڑی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے علاج کتنے مؤثر ہیں۔
یونیورسٹی آف کونسٹنز کی ماہر ماریا مورینو ویانا نیویا کا کہنا ہے کہ ایک ہی سال میں پیدا ہونے والے لوگوں کی حیاتیاتی عمر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر شخص کی اپنی انفرادی بڑھاپے کی رفتار ہوتی ہے۔




















