امریکی ارب پتی اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے جمعرات کو بائیڈن انتظامیہ کے خلاف آستینیں چڑھاتے ہوئے امریکی صدر کو گیلے جراب سے بنی کٹھ پتلی قرار دیدیا ہپے۔
گزشتہ روز صدر بائیڈن کی زیر صدارت “بِلڈ بیک بیٹر” بل کو فروغ دینے کے لیے جنرل موٹرز اور فورڈ کے چیف ایگزیکیوٹیوز سمیت اعلیٰ کاروباری رہنماؤں کا اجلاس ہوا، تاہم اس میں الیکٹرک کار جائنٹ ایلون مسک کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔
مسک نے بائیڈن کی ایک ٹوئٹر پوسٹ پر خاص طور پر برہمی کا اظہار کیا، جس میں امریکی صدر کی جنرل موٹرز کے سی ای او میری بارا کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آرہے تھے۔
ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ “جی ایم اور فورڈ جیسی کمپنیاں پہلے سے کہیں زیادہ الیکٹرک گاڑیاں اب مقامی طور پر بنا رہی ہیں۔”
جس پر مسک نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بائیڈن امریکی عوام کے ساتھ احمقوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔”
ایک اور ٹویٹ میں، ٹیسلا بانی نے طنزیہ لکھا کہ “بائیڈن انسانی شکل میں ایک گیلے موزے کی کٹھ پتلی ہیں۔”
وائٹ ہاؤس کی جانب سے مسک کے تبصروں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بائیڈن نے ملکی اخراجات کے بل میں الیکٹرک گاڑیوں اور گرین انرجی کی دیگر ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔
ایلون مسک گزشتہ اگست سے بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے آرہے ہیں، کیونکہ الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی ٹیسلا کو وائٹ ہاؤس کے الیکٹرک وہیکل سمٹ میں اس وقت مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ ٹیسلا کو اس تقریب میں کیوں شامل نہیں کیا گیا، تو وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے نوٹ کہا کہ سمٹ میں موجود تینوں فرمز “یونائیٹڈ آٹو ورکرز کی تین سب سے بڑے آجر” ہیں۔
یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ٹیسلا کو اس لیے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس کے ملازمین کی یونین نہیں ہے۔
مسک نے گزشتہ ستمبر میں کیلیفورنیا میں کوڈ کانفرنس میں شرکت کے دوران الیکٹرک وہیکل سمٹ سے ٹیسلا کی عدم شرکت پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس حکام نے “ایک بار بھی ٹیسلا کا ذکر نہیں کیا۔”
مسک نے اس وقت کہا تھا کہ “کیا یہ تھوڑا متعصبانہ نہیں لگتا؟”
مسک نے مزید کہا تھا کہ “یہ دوستانہ انتظامیہ نہیں ہے، بائیڈن انتظامیہ ایسا لگتا ہے کہ یونینوں کے زیر کنٹرول ہے۔”
خیال رہے کہ ٹیسلا موجودہ امریکی الیکٹرک گاڑیوں کے بازار کے ایک اہم حیثیت کی حامل ہے۔ کمپنی نے 2021 کے مالی سال میں ریکارڈ 936,172 الیکٹرک کاریں فراہم کیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 87 فیصد زیادہ ہے۔
ٹیسلا نے اس ہفتے 17.72 بلین ڈالر کی چوتھی سہ ماہی کی فروخت کی اطلاع دی تھی۔

















