دنیا بھر میں مختلف قسم کے نمک دستیاب ہیں جن کی الگ الگ قیمتیں ہوتی ہیں تاہم ایک نمک ایسا بھی ہے جس کو بانس میں ڈال کر پکایا جاتا ہے۔
اس نمک کی سب سے خاص بات اس کی قیمت ہے جو جان کر آپ کے بھی ہوش اُڑ جائیں گے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمالیائی گلابی نمک دنیا کا مہنگا ترین نمک ہے تو یہ بات درست نہیں بلکہ کوریا کے بانس نمک کی ایک پاؤ مقدار کی قیمت 18000 روپے یعنی 100 ڈالر فی پاؤ ہے جو اسے مہنگا ترین نمک بناتی ہیں۔
اسے کوریائی بانس نمک (بیمبو سالٹ) کہا جاتا ہے جس کی 240 گرام مقدار کی قیمت ایک سو ڈالر ہے۔ اگرچہ یہ عام نمک ہوتا ہے لیکن اسے مسلسل 50 روز تک نو مرتبہ بانس کے اندر رکھ کر بھونا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ غیرمعمولی محنت اور وقت کی وجہ سے نمک مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے۔
اگرچہ سویا نمک اور انتہائی سیاہ کلایوئی اونکس نمک بھی مہنگے ترین نمک ہیں لیکن بانس نمک سب سے آگے ہے۔ کوریا میں پائے جانے والے بانس کے خاص پودے کے درمیانی کھوکھے حصے میں سمندری نمک بھرا جاتا ہے۔ اس پر روایتی گارا لگا کر اسے بند کردیا جاتا ہے۔

پھر مسلسل 50 روز تک اسے ایک روایتی بھٹی میں پکایا جاتا ہے۔ اس طرح نمک مکمل طور پر بھن جاتا ہے اور اس کا ذائقہ بدل جاتا ہے۔ اس محنت کی قیمت مہنگے داموں کی صورت میں وصول کی جاتی ہے۔ اس طرح ایک پاؤ نمک 18000 روپے میں مل سکتا ہے۔
یہ نمک سینکڑوں برس سے بنایا جا رہا ہے اور ایک طویل عرصے سے کوریائی کھانوں بلکہ تہذیب کا بھی حصہ ہے۔
لیکن نومرتبہ پکائے جانے والے نمک کا رحجان ایک صدی قبل شروع ہوا کیونکہ اس سے قبل بانس کو دو یا تین مرتبہ ہی بھونا جاتا تھا۔
معلوم ہوا کہ اس طرح بانس کی خوشبو اور تاثیر نمک میں اچھی طرح رچ بس جاتی ہے اس گرمی سے نمک مزید صاف ہوجاتا ہے اور یوں گردوغبار سے پاک خالص تر بنتا جاتا ہے جبکہ اس کا ذائقہ بھی منفرد ہوجاتا ہے۔

اس میں تین سال بانس کے چھوٹے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں اور ایک کنارہ بند کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نمک بھر کر اسے روایتی بھٹی میں 800 درجے سینٹی گریڈ پر گرم کیا جاتا ہے، اس دوران بانس کا تیل نکل کر نمک میں جذب ہوتا رہتا ہے۔
تاہم 14 سے 15 گھٹے میں بانس کا بیرونی خول جل کر راکھ ہوجاتا ہے اور نمک پچتا ہے، اب دوبارہ اس نمک کو ایک اور بیلن نما کھوکھلے بانس کے ٹکڑے میں بھرکر اس عمل کو دوہرایا جاتا ہے، یہ عمل 8 سے 9 مرتبہ کیا جاتا ہے۔

آخری مرحلے میں بھٹی مزید گرم کرکے 1000 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے بعد نمک کے ڈلے ہاتھوں سے توڑے جاتے ہیں اور شیشیوں میں بھر کر فروخت ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پورا عمل ہاتھوں سے انجام دیا جاتا ہے اور یہی اس کی آسمان سے باتیں کرتی قیمت کی وجہ بھی ہے۔




















