Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خراب کی بورڈ؛ ایپل میک بک صارفین کو 50 ملین ڈالر ادا کرے گا

میک بک میں خراب کی بورڈ فراہم کرنے پرٹیکنالوجی جائنٹ ایپل صارفین کو 50 ملین ڈالرادا کرے گا۔

بی بی سی کے مطابق ایپل نے میک بک کی بورڈ کے معاملے پردائرہونے والے کیس میں شکایت کنندگان کو 50 ملین ڈالرادا کرنے پررضا مندی ظاہرکردی ہے۔

امریکا کی سات مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے صارفین نے عدالت میں دائردرخواست کہا تھا کہ ٹیکنالوجی جائنٹ نے 2015 سے 2019 کے درمیان میک بک، میک بک ایئراورمیک بک پرولیپ ٹاپس میں ’ بٹرفلائی‘ کی بورڈز دیے جن کی کارکردگی کم ہے اوروہ با آسانی گرد وغبار کی وجہ سے خراب ہورہے تھے۔

بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پرایپل نے اس بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا ہے.

 مزید پڑھیں: دھوکہ دہی کے الزام میں 42 ہزار ایپلی کیشنزبند

رپورٹ کے مطابق اس تصفیے کے تحت صارفین کوان کے نقصان کے لحاظ سے ادائیگی کی جائے گی۔ مختلف کی بورڈزتبدیل کرنے والے صارفین کو395 ڈالر، ایک بارتبدیل کرنے والے صارف کو125ڈالراورصرف کی کیپس تبدیل کرنے والے صارفین کو 50 ڈالردیے جائیں گے۔ تاہم اس ابتدائی معاہدے کی جج سے منظوری ابھی تک باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی فون کی رفتار سست کرنے کا الزام، ایپل صارفین کو 768ملین پاؤنڈ ادا کرے گا

عمومی طورپراستعمال ہونے والے کی بورڈ میں کیزپلاسٹک کے دو ٹکڑوں کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں جو دبانے پرایک دوسرے کو کراس کر تے ہوئے قینچی کی طرح بن جاتی ہیں، جب کہ بٹرفلائی کی بورڈ میں کیزبازو کی طرح بن جاتی ہں۔

اس وقت ایپل کا کہنا تھا کہ یہ میکانزم 40 فیصد پتلا ہے اور اس سے لیپ ٹاپ کومزید پتلا کیا جاسکے گا۔ تاہم، ان کی بورڈ میں سامنے آنے والی متعدد شکایات کے بعد ٹیکنالوجی جائنٹ نے 2018 میں ریپئراورتبدیلی کا پروگرام لانچ کیا تھا جس کے تحت کی بورڈ کو خریداری کے چارسال تک وارنٹی میں شامل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایپل ایپ اسٹور پر ڈیڑھ ارب ڈالر فراڈ کی کوشش!

2020 میں ایپل نے بٹرفلائی کی بورڈ کوختم کردیا اوراب کمپنی اسٹینڈرڈ سیزرسوئچزاستعمال کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ایپل کو امریکی عدالتوں میں اس کے علاوہ بھی متعدد قانونی شکایات کا سامنا ہے۔

گزشتہ روزہی امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ ایپل پرریاست کیلی فورنیا میں مالیاتی اداروں کی جانب سے کیس دائرکیا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق وفاقی عدالت میں ایپل کے خلاف ایفینیٹی کریڈٹ یونین کی جانب سے دائردرخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی جائنٹ موبائل فون انڈسٹری میں اپنی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ادائیگیوں کے لیے کارڈ جاری کرنے والی دیگرکمپنیوں کومسابقت سے روکنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی فون کریڈٹ کارڈ کی جگہ لینے کو تیار!

شکایت کے مطابق ایپل اپنے اسمارٹ فون، اسمارٹ واچ اور ٹیبلیٹ استعمال کرنے والے صارفین کواس بات کے لیے مجبورکررہا ہے کہ وہ کانٹیکٹ لیس ادائیگیوں کے لیے اس کے والٹ ’ ایپل پے‘ کو استعمال کریں۔ جیسا کہ اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم پرچلنے والی ڈیوائسزصارفین کوگوگل پے اورسام سنگ پے جیسے والٹ منتخب کرنے کی سہولت دیتی ہیں۔