چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دورانِ اجلاس کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ کار ساز کمپنیوں کے پاس لوگوں کے کتنے پیسے پڑے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمانی پبلک آکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گاڑی خریداری میں 20 فیصد ایڈوانس لیا جاسکتا ہے جس پرچئیرمین کمیٹی نورعالم خان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا جائے کہ کارساز کمپنیوں کے پاس لوگوں کے کتنے پیسے پڑے ہیں؟
سیکریٹری صنعت و پیداوار نے بتایا کہ ہمیں کوئی فارمیٹ بتا دیں کہ کیسے ان سے تفصیلات لینی ہیں ہم لے دیتے ہیں۔ ارکان کمیٹی کا کہنا تھا کہ لوگ خوار ہوتے ہیں انہیں گاڑی نہیں ملتی۔ کار کمپنیوں نے کتنے صارفین کو ریفنڈ کیا ہے۔ یہ کمپنیاں سو فیصد کیپسٹی پرگاڑیاں نہیں بناتی، کیا یہ جان بوجھ کر عوام کو ذلیل کر رہے ہیں۔
نورعالم خان نے کہا کہ کون سےقانون کے تحت مکمل پے منٹ کے باوجود آپ صارفین سے مزید پیسے مانگتے ہیں۔ ہرایک کیلئے کیا چیئرمین پی اے سی کال کرے یا کوئی منسٹر کال کرے۔ متعلقہ وزارتوں کو چاہیے اگر یہ مینوفیکچررزایسے کر رہے ہیں تو گاڑیوں کی امپورٹ کی اجازت دی جائے۔
آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ ٹیوٹا کے پاس 111 ارب لوگوں کاایڈوانس پڑا ہے، باقی کمپنیوں نے تفصیلات شیئر نہیں کیں۔
سیکریٹری صنعت و پیداوار نے بتایا کہ ہنڈاکے پاس 23 ارب روپے لوگوں کے ایڈوانس پڑے ہیں۔
نورعالم کا کہنا تھا کہ جب ہم نے کارساز کمپنیوں کو تفصیلات آڈیٹر جنرل کو دینے کی ہدایت کی تھی تو کیوں نہیں تفصیلات دی گئی۔
سیکرٹری صنعت کا کہنا تھا کہ 217.6 ارب سے زائد کار ساز کمپنیوں کے پاس ایڈوانس پڑے ہیں۔
چیئرمین پی اے سی کی چیئرمین ای ڈی بی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ای ڈی بی آپ کار مینوفیکچررز کو آنکھ مار رہے ہیں یہ درست نہیں۔ رکن کمیٹی نثاراحمد چیمہ نے کہا کہ آئندہ کیلئے ہدایت کریں کہ قائمہ کمیٹی میں کوئی آنکھ نہیں مارے۔
چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ مینوفیکچررز بیس فیصد کی بجائے سو فیصد پر بھی بکنگ کرتے رہے۔
آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا کہ اگر یہ پچاس فیصد پر پلانٹ چلا رہے ہیں تو پچاس فیصد تک امپورٹ کی اجازت دی جائے تو بہتری ہوسکتی ہے۔
کمیٹی چئیرمین کا کہنا تھا کہ بہاولپور سے ایک خاتون نے مجھے کہا ہے کہ 13 ماہ سے پے منٹ کی ہوئی ہے مگر گاڑی نہیں دی گئی۔کار مینوفیکچررز اپنے اکاؤنٹ بھر رہے ہیں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔
رکن کمیٹی نذہت پٹھان کا کہنا تھا کہ مینوفیکچررز نے گاڑیاں اتنی مہنگی کر دی کہ لوگ بائیک پر آگئے ہیں۔
سیکریٹری صنعت و پیداوار کا کہنا تھا کہ ڈیمانڈ کم ہونے کیوجہ سے مینوفیکچررز کم کیپسٹی پر ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ کار مینو فیکچررز تین ماہ سے زائد کی بکنگ نہ کریں۔
چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ہماری گزشتہ میٹنگ کے بعد کار مینوفیکچررز نے قیمتیں مزید بڑھا دی۔ یہ کار مینوفیکچررز نہیں یہ اسمبلرز ہیں۔کار اسمبلرز کا کہنا تھا کہ پیر سے ہماری فیکٹری بند ہے،ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے مسائل کا سامنا ہوا۔
ہنڈئی کمپنی کے نمائندے نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت بیس ارب لوگوں کا پڑا ہے۔
چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر یہ گاڑی ڈیلیور نہیں کرتے تو بیس فیصد سے زائد نہیں لوگوں کا رکھ سکتے۔اگر فل پے منٹ لیں گے تو ایک ماہ میں گاڑی لوگوں کو دینی ہوگی۔ان کاکائی بور ایک ماہ بعد شروع ہوگا۔
چئیرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایف بی آر ٹیرف طے نہیں کرتا نیشنل ٹیرف کمیشن کرتا ہے۔جس پرکمیٹی ارکان نے کہاکہ 1800 سے اوپر والی گاڑیوں کو بہت زیادہ منافع دیا گیا ہے ۔ان کو 200 فیصد کا منافع دیا جا رہا ہے۔ان کے پرزہ جات کی کوالٹی بہت بری ہے۔
چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ سیکریٹری صنعت سیکریٹری تجارت اور ایف بی آر ان کمپنیوں کے ریلیف کو کم کرنے کیلئے تجاویز دیں۔اگر وزارتوں نے اون اور منافع کم کرنے کیلئے درست سفارشات نہ دیں تو پھر کمیٹی خود چیزوں کو درست کرے گی۔
ایڈیشنل سیکرٹری تجارت احمد مجتبی میمن کا کہنا تھا کِہ کار ساز کمپنیوں کو ایک سو سے تین سو فیصد تحفظِ دیا جاتا ہے لیکن اب یہ پانچ سو فیصد تک ہو گیا ہے۔
سیکرٹری صنعت کا کہنا تھا کہ آٹو پالیسی وفاقی حکومت نے دی سرمایہ کاروں کو پالیسی میں تبدیلیوں پر بہت تحفظات ہوتے ہیں۔
رکن کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہم پالیسی میں تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں کیا پالیسی میں پانچ سو فیصد پروٹیکشن دی گئی ہے۔ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیرف میں ہم کمی کر سکتے ہیں اگر پانچ سو فیصد ڈیوٹی تحفظ کو چار سو فیصد کم دیں تو پھر بھی بہت منافع کما سکتے ہیں۔
چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ جن گاہکوں سے سو فیصد قیمت لے لی ان سے مزید قیمت نہیں لی جائے گی۔ گاڑیوں پر اون بڑھ گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ گاڑیوں کی طلب بڑھ گئی ہے۔ گاڑی والے انجن کو تین حصوں میں لا کر 35 فیصد ڈیوٹی کی بجائے 10 فیصد ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔
کِیا موٹرز کے حکام کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں کیا موٹرز کی گاڑیاں فوری دستیاب ہیں اور کوئی اون نہیں ہے۔
آڈیٹر جنرل نے کہا کہ آٹو پالیسی میں لکھا ہے اگر پالیسی صارفین کا تحفظ نہ کر سکے تو اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ وزارت صنعت و پیداوار اخبارات میں اشتہار دیں اور صارفین سے شکایات طلب کا جائزہ لے۔ ایف بی آر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا جائزہ لیں ۔کیا یہ درست ہے کہ ڈیوٹی بچانے کیلئے انجن تین حصوں میں لایا جاتا ہے ۔اس چیز کا تعین ایف بی آر نہیں کرتا بلکہ انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کرتا ہے۔
اجلاس میں چئیرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ ایم جی کو کتنی گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت تھی۔
سیکرٹری صنعت و پیداوار کا کہنا تھا کہ ایم جی گاڑیاں پالیسی کے تحت نہیں بلکہ کمرشل درآمد کے تحت آئیں۔
رکن کمیٹی محسن عزیز نے کہاکہ ایم جی نے 20 لاکھ روپے فی گاڑی ٹیکس دیا۔جبکہ دیگر گاڑیوں پر ٹیکس ایک کروڑ اسی لاکھ روپے لیا گیا۔
چئیرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایم جی اور مرسیڈیز گاڑی کی قیمت میں بھی تو فرق ہے ۔اس معاملے کو مزید دیکھ رہے ہیں۔ارکان کمیٹی نے کہا کہ پاکستان میں ناں کسٹمز گاڑیاں بھی چل رہی ہیں۔




















