لاہورہائی کورٹ نے اسموگ تدارک کے لیے بڑا حکم جاری کرتے ہوئے لاہورشہرمیں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس شاہد کریم اسموگ کے تدراک سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہرمیں درخت کاٹنے کو فوجداری جرم قراردینے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ لاہور شہر میں اسموگ کے معاملے پر پہلے ہی حالات بہت خراب ہیں۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ درخت کاٹ کرحالات مزید ابترنہ کیے جائیں۔ کسی بھی پراجیکیٹ کے لیے آئندہ محکمہ ماحولیات درختوں کی کٹائی کی صورت میں این او سی جاری نہ کرے۔
لاہور ہائی کورٹ نے ٹریفک کے رش والے علاقوں میں خلاف ورزی کی صورت میں ایمرجنسی نمبرز کے بورڈز آویزاں کرنے کی ہدایت بھی کی۔
جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں اسموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نگراں حکومت کی جانب سے اسموگ تدارک کے لئے چینی ماہرین کی خدمات کے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نگراں حکومت نے اسموگ تدارک کے لئے چینی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ورکنگ پیپرجاری کردیا۔
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب آپ اس ورکنگ پیپر کو وفاقی حکومت کے ذریعے چِینی جکومت سے شیئرکریں۔ چینی ماہرین کی مدد سے اسموگ کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔
لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت آئندہ سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔




















