دنیا بھر میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو کسی نہ کسی نیند کے عارضے میں مبتلا نہ ہو، اور رات سونے سے قبل نیند کے لیے دوا ضرور لیتے ہیں۔ تاہم قدرتی نیند کے بجائے دوا سے نیند لانا صحت کے لیے مفید ہے یا مضر اور ماہرین اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں جانتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نیند کی دوا ان لوگوں کے لیے آخری انتخاب ہونی چاہیے جو نیند کے مسائل کا سامنا ہے۔
نیند کی دوائیں ان لوگوں میں کافی مقبول ہیں جو کسی نیند کے عارضے میں مبتلا ہیں اور رات پرسکون نیند کے لیے ادویات کا سہارا لیتے ہیں۔
ایسا اس وقت ہوتا ہے جب لوگوں کو رات معیاری نیند میں خلل، دیر سے نیند آنا اور نیند کی مقدار میں کمی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں یہ دن میں بوجھل اور تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اس طرح نیند کی کمی سے صحت کے بہت سے مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔
نیند کے پیٹرن اور عادات میں تبدیلی سے جسم پر منفی اثر ات مرتب ہوتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں یہ نیند کی کمی یا بے خوابی کا باعث بنتی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی دوا آخری انتخاب ہونا چاہیے جب کہ کوئی اور چیز کام نہ کر رہی ہو۔
ماہرین رات کی نیند کو بہتر بنانے کے لیے چند تجاویز پیش کرتے ہیں۔ ایک خاص وقت پر سونے اور اسی وقت جاگنے کی کوشش کریں۔ یقینی بنائیں کہ پس منظر میں کوئی شور نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سونے سے پہلے چائے یا کافی جیسے مشروبات کے استعمال سے گریز کریں۔ ہلکا کھانا کھائیں تاکہ آپ کے سونے کے وقت میں خلل نہ پڑے۔ زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ نہانے سے انہیں سکون ملتا ہے۔ اگر یہ آپ کو سونے میں مدد دیتا ہے تو آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ مراقبہ بھی ایک اچھا آپشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان میں سے کوئی بھی کام نہیں کرتا ہو تو نیند کی دوا، نسخے کے ذریعے استعمال کی جا سکتی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















