نئی دہلی: بھارت ریاست بہار میں ایک مسلم نوجوان ڈاکٹر کو تعیناتی کا لیٹر دیتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس کا نقاب زبردستی اتار دیا جس پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
بھارتی تجزیہ کار اشوک سوین نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مودی حکومت کی خواتین دشمنی اور اسلاموفوبیا کو سرکاری طور پر منظور کرنے کی واضح مثال ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے ریاست میں آیوش پریکٹیشنرز کو تعیناتی کے خطوط تقسیم کررہے تھے، جب انہوں نے اسٹیج پر موجود ایک مسلم بچی عاشہ کا نقاب زبردستی اتاردیا۔
اس دوران بچی کو مسکرانے پر مجبور کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ کس قدر غیر مساوی اور مجبورانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے۔
یہ افسوس ناک واقعہ بھارت میں اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کی پامالی ہے اور ایسے اقدامات معاشرتی تقسیم اور خوف و ہراس کو بڑھاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس قسم کے اقدامات بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا اور معاشرتی امتیاز کی نشاندہی کرتے ہیں جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔


















