معتبر عالمی جریدے دی وال اسٹریٹ جرنل نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں پر کھلی چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے بھارت کے سیکولر تشخص کو شدید سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مودی کے دور میں بھارت ایک فل کلاس جمہوریت کے بجائے اکثریتی ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی اقلیت بھی بدترین حالات سے دوچار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 کے بعد بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا۔ مسلمانوں کو رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ کے حق تک میں امتیاز کا سامنا ہے، جبکہ صرف 2.3 فیصد آبادی ہونے کے باوجود عیسائی برادری بھی منظم ہندوتوا تشدد کی زد میں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 2025 میں نومبر تک 706 اینٹی کرسچن واقعات ریکارڈ ہوئے، جب کہ یونائیٹڈ کرسچن فورم کے اعدادوشمار کے مطابق 2014 میں 139 سے بڑھ کر 2024 میں یہ تعداد 834 تک پہنچ چکی ہے۔
جریدے نے انکشاف کیا کہ گرجا گھروں پر حملے، عبادات کے دوران تشدد، کرسمس کی علامتوں کی توڑ پھوڑ جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔
کرسمس 2025 کو مذہبی انتہاپسندی کا قومی فلیش پوائنٹ قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختلف ریاستوں میں ہجوم نے نفرت انگیز نعرے لگائے، چرچز پر دھاوے بولے گئے اور مذہبی علامات مسمار کی گئیں—مگر مودی حکومت کی جانب سے واضح مذمت سامنے نہ آئی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مودی کا چرچ جانا مگر ملک گیر حملوں کی مذمت سے گریز، شدت پسند عناصر کے لیے خاموش سرکاری اشارہ ہے۔
رپورٹ میں اینٹی کنورژن قوانین، پولیس کی بے عملی اور ریاستی رویّے کو اقلیتوں کے خلاف تشدد کے لیے عملی تحفظ قرار دیا گیا ہے۔
یوپی میں کرسمس کے دن اسکول کھلے رکھنے کے احکامات، مدھیہ پردیش میں چرچ پر حملہ اور چھتیس گڑھ میں کرسمس سجاوٹ کی توڑ پھوڑ—یہ سب واقعات اسی رجحان کی مثالیں ہیں۔
عالمی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ کو دھچکا پہنچا ہے۔ امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارت کو “Country of Particular Concern” قرار دینے کی سفارش کی، جب کہ سیاسی مبصرین کے مطابق ریاستی خاموشی نے انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ کا تاثر دیا ہے۔
رپورٹ کا دوٹوک نتیجہ یہ ہے کہ بھارت کا سیکولر دعویٰ بے نقاب ہو چکا ہے اور خوف اقلیتوں کی شناخت بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کی مثال دیتے ہوئے مختلف مذہبی و سیاسی شخصیات نے کرسمس پر مسیحی برادری کے ساتھ یکجہتی کو اجاگر کیا، جبکہ بھارت کے بارے میں کہا گیا کہ نفرت کی سیاست نے اسے سفارتی طور پر تنہا کرنے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی یہ رپورٹ ہندوتوا کے زیرِ سایہ بھارت کے اس چہرے کو دنیا کے سامنے رکھتی ہے جسے اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔



















