بیجنگ: پاکستان اور چین نے افغانستان، غزہ، مسئلہ کشمیر اور سی پیک 2.0 کے مسائل پر مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔
پاکستان اور چین نے افغانستان میں قریبی رابطہ و ہم آہنگی، غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل، اور سی پیک 2.0 کے ذریعے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر 3 تا 5 جنوری 2026 چین کا دورہ کیا، جہاں بیجنگ میں چین۔پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی گئی۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے دوطرفہ تعلقات سمیت اسٹریٹجک و سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر روابط کا جامع جائزہ لیا۔
اعلامیے میں افغانستان سے متعلق افغان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ جامع سیاسی فریم ورک اپنائے، اعتدال پسند پالیسیاں اختیار کرے، ترقی پر توجہ دے اور ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات استوار کرے، جبکہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی اپیل بھی کی گئی۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور وانگ ای کی ملاقات، پاک چین دوستی کو نئی رفتار دینے پر اتفاق
غزہ کے حوالے سے فریقین نے غیر مشروط، جامع اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل بشمول آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
چین اور پاکستان نے اسٹریٹجک تعاون شراکت داری کے تحت تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے، آئندہ برس اسلام آباد میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے اگلے دور کے انعقاد، مالیاتی و بینکاری شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی کثیرالجہتی مالی فورمز پر باہمی حمایت پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے اپنے مالیاتی شعبوں کے لیے چین کی حمایت کو سراہا۔
فریقین نے خلائی تعاون میں وسعت پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستانی خلا نوردوں کی جلد چین کے خلائی اسٹیشن پر متوقع تعیناتی کو سراہا۔
بعد از جنگ عالمی نظام کے لیے قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈم اعلامیہ اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر مبنی نظام کی حمایت، نیز اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر مبنی علاقائی نظم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستانی فریق نے تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ چین نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ کشمیر تاریخ کا حل طلب مسئلہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پُرامن طور پر حل کیا جانا چاہیے۔
سرحد پار آبی وسائل کے تعاون پر برابری اور باہمی مفاد کے اصول کے تحت آمادگی بھی ظاہر کی گئی۔
تین فریقی و کثیر فریقی تعاون میں چین۔افغانستان۔پاکستان وزرائے خارجہ ڈائیلاگ اور چین۔بنگلہ دیش۔پاکستان تعاون کے میکنزم جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔
پاکستان نے ون چائنا پالیسی کا بھرپور اعادہ کرتے ہوئے تائیوان کو چین کا اٹوٹ انگ قرار دیا اور “تائیوان کی علیحدگی”، “دو چین” یا “ایک چین، ایک تائیوان” کے کسی بھی تصور کی مخالفت کی۔
سنکیانگ، شِی زانگ (تبت)، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین کے امور پر بھی پاکستان نے چین کی حمایت کا اعادہ کیا۔
سلامتی کے باب میں چین نے پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جامع کوششوں اور چینی اہلکاروں و منصوبوں کے تحفظ کو سراہا۔
فریقین نے دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف زیرو ٹالرنس، انسدادِ دہشت گردی میں ہمہ جہت تعاون، دہرے معیارات کی مخالفت اور عالمی برادری سے تعاون مضبوط بنانے کی اپیل کی۔
اقتصادی تعاون کے تحت بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نمایاں منصوبے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈڈ ورژن سی پیک 2.0 کی تعمیر پر اتفاق ہوا، جس میں صنعت، زراعت اور معدنیات پر توجہ، گوادر بندرگاہ کی تعمیر و آپریشن، قراقرم ہائی وے کی بلا رکاوٹ آمدورفت اور پائیدار ترقی کی صلاحیت بڑھانا شامل ہے۔
تجارت و سرمایہ کاری، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت، اور عوامی و ثقافتی تبادلوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ طے شدہ شرائط کے مطابق سی پیک میں تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ چین اور پاکستان موسموں سے بے نیاز اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، فولاد کی مانند مضبوط دوستی اور باہمی اعتماد علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
فریقین نے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر یادگاری سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کیا۔ پاکستان نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں، 14ویں پانچ سالہ منصوبے کی تکمیل اور 15ویں منصوبے پر مبارکباد دی، جبکہ چین نے پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام اور نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان (اُڑان پاکستان) کے تحت پیش رفت پر سراہا۔



















