نیویارک: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وینزویلا کی صورتحال پر شدید بحث ہوئی، جہاں روس اور چین نے امریکی کارروائی کی کھل کر مذمت کی۔
پاکستان نے براہِ راست تنقید سے گریز کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی پاسداری پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس کے آغاز پر وینزویلا میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام، اس کے خطے پر ممکنہ اثرات اور ریاستوں کے باہمی تعلقات پر پڑنے والی مثال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔
اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی عدالت میں پیش کیا جا رہا تھا۔
اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ نے ایک محدود فوجی کارروائی کے ذریعے دو مفرور ملزمان، مادورو اور ان کی اہلیہ، کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے کہا کہ یہ کارروائی وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف جنگ نہیں اور امریکہ کسی ملک پر قبضہ نہیں کر رہا۔
اس کے برعکس اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے سفیر نے امریکی اقدام کو غیر قانونی مسلح حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی قانونی توجیہ موجود نہیں۔
روس، چین اور کولمبیا نے بھی امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی مذمت کی اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کیا جائے۔
روس کے سفیر نے کہا کہ وہی ممالک جو دیگر مواقع پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر شور مچاتے ہیں، آج اصولی مؤقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جو کھلی منافقت ہے۔
تاہم یہ بھی یاد دلایا گیا کہ اقوامِ متحدہ نے خود روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے باعث مذمت کا نشانہ بنایا تھا۔
کولمبیا، جس نے اجلاس بلانے کی درخواست دی، نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
امریکہ نے اپنے دفاع میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا، جو مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کے حق کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم سلامتی کونسل میں امریکہ کو ویٹو حاصل ہونے کے باعث اس کے خلاف کسی بھی کارروائی کا امکان محدود ہے۔
پاکستان کا مؤقف: یکطرفہ فوجی کارروائی خطرناک مثال
اجلاس کے دوران پاکستان نے محتاط مگر واضح مؤقف اختیار کیا۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے اور وینزویلا میں بڑھتی کشیدگی عالمی امن کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
عثمان جدون نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا واحد اور پائیدار حل مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔
ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کا منشور رکن ممالک کو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہنے کا پابند کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں ان اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے تصور کی خلاف ورزی ہیں اور اس طرح کے اقدامات خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں، ثالثی اور مکالمے کے مواقع کو موقع دیں اور ایسے کسی اقدام سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہو۔
پاکستانی مندوب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف پُرامن ذرائع، سفارت کاری اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔




















