راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان خطے میں دہشت گردی کا باقاعدہ بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک طویل اور جامع نیوز کانفرنس میں ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز، دہشت گردی، افغانستان، بھارت، سیاست اور ریاستی مؤقف پر کھل کر بات کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا کوئی دین، ایمان، قومیت یا انسانیت نہیں ہوتی اور یہ عناصر اسلام کے نام پر فتنہ پھیلارہے ہیں۔
دہشت گردی اور فتنہ الخوارج
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد دراصل خوارج ہیں جن کا اسلام، پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 2023 سے پہلے دہشت گردوں کو خارجی بھی نہیں کہا جاتا تھا جب کہ آج یہ ایک واضح حقیقت بن چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں کا سرپرست افغان طالبان ہیں اور القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت تمام بڑی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں شام سے 2500 غیر ملکی دہشت گرد افغانستان منتقل ہوئے جو افغان شہری نہیں بلکہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان، اسلحہ اور عالمی کردار
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق امریکا اور اتحادی افواج کے انخلا کے وقت 7.3 ملین ڈالر کا جدید اسلحہ افغانستان میں چھوڑا گیا جو اب بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے اور دہشت گرد استعمال کررہے ہیں۔ اس اسلحے میں جدید رائفلز، بلٹ پروف جیکٹس اور نائٹ وژن آلات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت حکومت نام کی کوئی مؤثر چیز موجود نہیں اور وہ خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔
بھارت کا کردار اور معرکۂ حق
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کو مالی معاونت اور سرپرستی فراہم کررہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ معرکۂ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا جو پوری دنیا نے دیکھا۔ بھارت کو کوئی حق نہیں کہ وہ پاکستان میں کسی شہری یا انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچائے۔
سیاست اور اداروں سے متعلق مؤقف
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیاست سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ ہمارا کام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنا نہیں بلکہ پاکستان اور اس کی سرحدوں کا دفاع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں، سب ہمارے لیے برابر ہیں۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وزیراعظم یہ کہتے رہے کہ وہ بااختیار نہیں، حالانکہ وہ اتنے بااختیار تھے کہ انہوں نے آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دے دیا جب کہ اس قوم کا ایک ہی باپ ہے اور وہ قائداعظم محمد علی جناح ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اعداد و شمار
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال خودکش حملوں کے 27 واقعات ہوئے، خیبرپختونخوا میں 3811 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ بلوچستان میں 1557 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان آپریشنز کے دوران 2597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور مجموعی طور پر 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور یہ جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔ اگر ہم ان کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو یہ دہشت گرد ہمارے گھروں اور بازاروں میں حملے کریں گے۔
واضح پیغام
آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک پیغام دیا کہ ہمارا انتخاب صرف پاکستان ہے، کسی کی سیاست یا ذات پاکستان سے بڑھ کر نہیں۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بزور طاقت بھی جیتی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2026 کی صورتحال اس بات پر منحصر ہے کہ ہم آج کس قدر یکسوئی کے ساتھ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔


















