بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے کھلاڑیوں کے بائیکاٹ کے بعد ناظم الاسلام کو بورڈ کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے فوری طور پر ہٹا دیا ہے۔
بی سی بی کے جاری کردہ بیان کے مطابق حالیہ پیش رفت کے جائزے اور ادارے کے بہترین مفاد میں صدرِ بی سی بی نے آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ناظم الاسلام کو فنانس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے فوری طور پر فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ آئندہ اطلاع تک بی سی بی کے صدر خود قائم مقام چیئرمین کے فرائض انجام دیں گے۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بورڈ کے امور کی مؤثر اور ہموار کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی نے بنگلہ دیش ٹیم کی سیکیورٹی کو اولیت دینے کی یقین دہانی کرادی
بی سی بی نے واضح کیا کہ کرکٹرز کے مفادات اس کی اولین ترجیح ہیں اور بورڈ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام کھلاڑیوں کے وقار اور عزت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
بی سی بی نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ موجودہ مشکل دور میں تمام کرکٹرز اعلیٰ پیشہ ورانہ رویہ اپناتے ہوئے بنگلادیش کرکٹ کی بہتری کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے اور بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں شرکت کو یقینی بنائیں گے۔
یاد رہے کہ ڈائریکٹر ناظم الاسلام نے کرکٹرز کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز بیانات دیئے تھے، جس کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی پی ایل کے تمام میچز کا بائیکاٹ کردیا تھا۔
کرکٹرز کی جانب سے بائیکاٹ کے بعد جمعرات کی صبح ڈھاکا کرکٹ لیگ کے چار فرسٹ ڈویژن میچز شروع نہ ہو سکے جس پر بی سی بی کو شدید تشویش لاحق ہوئی۔
چٹاگانگ رائلز اور نواکھلی ایکسپریس کے کا میچ بھی بائیکاٹ کی وجہ سے تاحال شروع نہیں ہوسکا۔ جس کے بعد بورڈ نے ناظم الاسلام کی برطرفی کا فیصلہ کیا ہے۔



















