ناسا نے چاند پر ایٹمی بجلی گھر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو کئی برس تک مسلسل توانائی فراہم کرے۔
امریکی خلائی ادارے نے توانائی کے قومی محکمے کے اشتراک سے چاند کی سطح پر ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے منصوبے کی دوبارہ تصدیق کردی ہے۔
اس منصوبے کے تحت چاند پر ایسا ایٹمی بجلی گھر قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جو کئی برس تک مسلسل توانائی فراہم کرسکے تاکہ مستقبل کے قمری مشنز کو زمین سے ایندھن بار بار پہنچانے کی ضرورت نہ رہے۔
خلائی ادارے کے مطابق دونوں ادارے سنہ 2030 تک اس منصوبے کے تیاری کے مرحلے کو مکمل کرنا چاہتے ہیں جس میں زمین پر تجربات بھی شامل ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعاون خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ سکتا ہے اور انسان کی خلاء میں موجودگی کو مزید مستحکم بناسکتا ہے۔
تاہم بجلی گھر کے لیے چاند پر ایٹمی نظام قائم کرنا زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ زمین پر اضافی حرارت کو پانی اور فضا کے ذریعے خارج کیا جاتا ہے مگر چاند پر نہ فضا موجود ہے اور نہ ہی پانی جس کے باعث حرارت کے اخراج کا مسئلہ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
ماہرین اس کے لیے ٹھوس مادّوں یا دھاتی سیال کے ذریعے حرارت منتقل کرنے جیسے طریقوں پر غور کر رہے ہیں مگر ہر طریقہ اپنی تکنیکی مشکلات رکھتا ہے۔
چاند کی سطح پر موجود باریک گرد بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ گرد نہ صرف انتہائی کھردری ہے بلکہ سورج کی شعاعوں سے چارج ہوکر ہر چیز سے چپک جاتی ہے جس سے مشینری کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی لیے قمری ماحول میں استعمال ہونے والے تمام آلات کو خاص احتیاط سے تیار کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ تابکاری سے تحفظ بھی ایک اہم پہلو ہے تاکہ چاند پر موجود خلا نورد محفوظ رہ سکیں۔ نظام کو اس حد تک مضبوط بنانا ہوگا کہ مرمت کی ضرورت نہ ہونے کے برابر ہو کیونکہ چاند پر فوری تکنیکی مدد ممکن نہیں۔
ماہرین کئی برسوں سے ان مسائل پر تحقیق کررہے ہیں، اس لیے یہ منصوبہ بالکل ابتدائی مرحلے سے شروع نہیں ہورہا۔ موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق یہ بجلی گھر کم از کم چالیس کلوواٹ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گا جو زمین پر درجنوں گھروں کی مسلسل ضرورت پوری کرنے کے برابر ہے اور دس برس تک کام کرسکتا ہے۔
اگرچہ منصوبے کا ابتدائی خاکہ مکمل ہوچکا ہے مگر اسے عملی شکل دینا وقت طلب مرحلہ ہے جس کا انحصار فنڈز اور قواعد و ضوابط پر بھی ہوگا۔
چاند پر ایٹمی بجلی گھر قائم ہونا خلائی تحقیق کے لیے ایک انقلابی قدم ہوگا تاہم فی الحال یہ ایک طویل المدتی خواب دکھائی دیتا ہے نہ کہ فوری حقیقت۔




















