امریکا نے حوثیوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے حوثی تنظیم کے 21 افراد و اداروں اور ایک بحری جہاز پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات (OFAC) نے آج حوثی تنظیم سے منسلک سرگرمیوں میں ملوث 21 افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا، جبکہ ایک بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم کو مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد اور نیٹ ورک کو محدود کرنا ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں ایسے افراد اور کمپنیوں پر مرکوز ہیں جو تیل کی مصنوعات کی منتقلی، ہتھیاروں کی خریداری اور مالی خدمات فراہم کرتے ہیں، اور حوثیوں کی وسیع مالی و اسمگلنگ سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: حوثی باغیوں نے اسرائیل جانے والامال بردارجہاز بحیرہ احمرمیں تباہ کردیا،ویڈیوجاری
ان نیٹ ورکس میں یمن، عمان، اور متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنیوں اور فرونٹ اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہےکہ حوثی تنظیم امریکہ کو دہشت گردی کے واقعات اور بحری جہازوں پر حملوں کے ذریعے خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ہم ایسے افراد اور اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو حوثیوں کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
پابندیوں کے نتیجے میں نشانہ بنائے گئے افراد و اداروں کے امریکی اثاثے منجمد ہو جائیں گے اور امریکی شہری یا کمپنیاں ان کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کر سکیں گی۔
اس کے علاوہ کسی بھی ادارے میں جو 50 فیصد یا اس سے زیادہ ان کے ملکیت میں ہو، وہ بھی پابندیوں کی زد میں آئے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ حوثیوں کی مالی رسائی محدود ہو اور وہ یمن اور ریڈ سی میں کمرشل جہازوں پر بلاوجہ حملے کرنے سے قاصر ہوں۔



















