چین نے امریکی حکومت کی منظوری کے باوجود این ویڈیا (Nvidia) کے جدید H200 مصنوعی ذہانت (AI) چِپس کی درآمد روک دی ہے۔
چین کی جانب سے اے آئی چپس کی درآمد روکے جانے کے باعث پرزہ جات فراہم کرنے والی کمپنیوں نے پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی کسٹمز حکام نے حالیہ دنوں میں واضح ہدایات جاری کیں کہ این ویڈیا کے H200 چِپس کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی چینی حکام نے مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ان چِپس کی خریداری سے گریز کریں، سوائے اس کے کہ یہ انتہائی ضروری ہو۔
مزید پڑھیں: کینیڈا کا بڑا فیصلہ، چین سے رعایتی درآمد پر الیکٹرک گاڑیوں کی منظوری دے دی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے اس اقدام کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ آیا یہ مکمل پابندی ہے یا عارضی فیصلہ۔
این ویڈیا کے H200 چِپس کو کمپنی کا دوسرا طاقتور ترین اے آئی پروسیسر سمجھا جاتا ہے اور یہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی کشیدگی کا ایک اہم نکتہ بن چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ این ویڈیا کو چینی کمپنیوں سے 10 لاکھ سے زائد آرڈرز کی توقع تھی، جبکہ اس کے سپلائرز مارچ سے ترسیل کی تیاری کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہے تھے۔ تاہم اچانک پابندی کے بعد صورتحال غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔
معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ امریکی حکومت نے حال ہی میں ان چِپس کی چین کو برآمد کی اجازت دی تھی، مگر شرط عائد کی کہ یہ چِپس پہلے امریکا میں ٹیسٹنگ کے مرحلے سے گزریں گے، جس کے نتیجے میں ان پر 25 فیصد ٹیرف بھی لاگو کیا گیا۔
یہی ٹیکس اے ایم ڈی کے MI325X پروسیسر پر بھی عائد کیا گیا ہے۔
ماہرین اس فیصلے پر منقسم ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ چین کو یہ چِپس فروخت کرنے سے وہ امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا رہے گا، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ جدید چِپس مستقبل میں فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
این ویڈیا کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ عالمی سطح پر اس فیصلے کو امریکا۔چین ٹیکنالوجی جنگ کی ایک نئی قسط قرار دیا جا رہا ہے۔


















