Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان بنیادی طور پر زرعی معیشت ہے، چین ہر مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا، وزیراعظم

چینی صدر کے دورہ پاکستان کے لئے پرامید اور منتظر ہوں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بزنس فورم کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی معیشت ہے اور ملک کی 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی اور کام کرتی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ بزنس فورم کا انعقاد زراعت، تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم ابھی ترقی کا سفر طویل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی معیشت ہے اور ملک کی 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی اور کام کرتی ہے۔

انہوں نے معاشی اشاریوں میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر ساڑھے 10 فیصد پر آچکا ہے جب کہ برآمدات میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور معاشی اشاریے مستحکم ہو رہے ہیں۔ اب پاکستان کو پائیدار ترقی کی جانب بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی صلاحیت لامحدود ہے اور اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو پاکستان کو زرعی شعبے میں تجارتی سرپلس حاصل ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم نے چین کو پاکستان کا عظیم دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اس نے کبھی بہترین مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی سے گریز نہیں کیا۔

شہباز شریف کہتے ہیں کہ چینی سفیر نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ کم از کم زرعی شعبے میں پاکستان کو تجارتی سرپلس حاصل کرنا چاہیے۔

شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دورے کے لیے پرامید اور منتظر ہیں۔ امید ہے چینی صدر پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی سالگرہ کی تقریبات میں بطور معزز مہمان شرکت کریں گے۔

وزیراعظم نے پاکستان اور چین کی دوستی کو شہد سے میٹھی اور فولاد سے مضبوط قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوا ہے اور اب پاکستان سی پیک 2.0 کا منتظر ہے۔ چین ایک بار پھر زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور معدنیات کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہے۔