پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی یا اس میں کسی قسم کی ترمیم علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے یو این کے ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی معاہدہ ہے جو مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور اس کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
عثمان جدون کا کہنا تھا کہ بھارت دانستہ طور پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں ممکنہ عدم استحکام کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان کے قائم مقام مندوب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب سفارتی اور قانونی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔


















