برطانیہ میں الیکٹرک وینز کی فروخت حکومتی اہداف سے پیچھے ہے، جس الیکٹرک وینز کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
تاہم وہ بیڑے (fleets) جنہوں نے الیکٹرک وینز اپنا لی ہیں، لاگت، اعتبار اور ماحولیاتی فوائد میں واضح فرق محسوس کر رہے ہیں۔
حکومت کا ہدف تھا کہ 2025 میں نئی وینز کی 16 فیصد فروخت الیکٹرک ہو، مگر حقیقت میں یہ شرح صرف 9.5 فیصد رہی۔ وینز سے کاربن اخراج 2023 میں 18 ملین ٹن رہا جو برطانیہ کے ٹرانسپورٹ کے مجموعی اخراج کا تقریباً 12 فیصد ہے۔
اوپن ریچ کے پاس برطانیہ کے دوسرے بڑے کمرشل بیڑے میں 6,000 الیکٹرک وینز ہیں اور مزید 1,000 وینز شامل کی جا رہی ہیں۔
بڑے اداروں کے لیے مقررہ روٹس اور رات بھر چارجنگ کی سہولت الیکٹرک وینز کو موزوں بناتی ہے۔
رائل میل نے بھی اپنے بیڑے میں الیکٹرک وینز شامل کر کے اور مائیکرو الیکٹرک گاڑیاں استعمال کر کے پورے پارسل ڈلیوری سسٹم کو صفر اخراج تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے ابتدائی لاگت بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک E-Transit Custom کی قیمت £43,630 ہے جبکہ سب سے سستی ڈیزل وین £33,750 میں دستیاب ہے۔
تین سال میں الیکٹرک وین سے تقریباً €14,000 (£12,200) کی بچت ممکن ہے، جس کا زیادہ تر فائدہ چارجنگ کی کم لاگت سے حاصل ہوتا ہے۔
بڑے بیڑے رعایتی نرخ اور گھریلو چارجرز سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں تاکہ چارجر کی دستیابی اور رینج اینزائٹی جیسے مسائل کم کیے جا سکیں۔
صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ZEV مینڈیٹ (Zero Emission Vehicle) پیچیدہ ہے اور اہداف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جیسا کہ 2026 میں 24 فیصد، 2030 میں 70 فیصد، جبکہ 2035 میں ڈیزل اور پیٹرول وینز کی فروخت پر پابندی ہوگی۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ مارکیٹ اس رفتار کے ساتھ نہیں چل رہی اور حکومت کو اضافی سبسڈیز یا اہداف کا جائزہ لینا چاہیے۔
ماحولیاتی اور بڑے بیڑے کے ادارے اس کے برعکس موقف رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الیکٹرک وینز کی منتقلی کا کاروباری کیس مضبوط ہے اور یہ ماحولیاتی ذمہ داری بھی ہے۔
اوپن ریچ کے انجینئرز اور دیگر بڑے بیڑے والے ادارے اس بات کا مشاہدہ کر چکے ہیں کہ ایک بار الیکٹرک وین آزمانے کے بعد ڈرائیور دوبارہ ڈیزل پر واپس نہیں جاتے۔
