وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول ہے، کوئی آپریشن نہیں ہورہا، خواجہ آصف نے کہاہے کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو بحران کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
پریس کانفرنس میں عطااللہ تارڑ اور اختیار ولی بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لے 4 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں، جن کا اسے حساب دینا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ یہ جگہ 17 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے، جہاں سخت سردی پڑتی ہے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت سارا ملبہ آپریشن پر ڈال رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔
پی ٹی آئی کی کے پی حکومت میں کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں ، 4سے 5 سال پہلے ہوسکتا ہے کہ یہ بھتہ اسلام آباد بھی آتا ہو ،خواجہ آصف pic.twitter.com/bGqyw0wyve
— WE News (@WENewsPk) January 27, 2026
ان کا کہناتھاکہ 11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا تھا جس میں اہم امور طے پائے اور فیصلہ ہوا کہ علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور مشران کے جرگے کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، اب آپریشن سے متعلق مفروضوں سے کام لیا جارہا ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھیں تو اس علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانہ موجود نہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہاکہ ہزاروں فٹ بلندی پر واقعے ان علاقوں میں بھنگ کی کاشت ہوتی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ جس سے حاصل رقم کالعدم ٹی ٹی پی اور مقامی سیاسی لوگ لیتے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہاکہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کوئی انوکھی چیز نہیں، لیکن پی ٹی آئی نے اسے انوکھا بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کے کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، 4 سے 5 سال پہلے ہوسکتا ہے کہ یہ بھتہ اسلام آباد بھی آتا ہو۔
















