اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 30 جنوری 2026 کو ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے رسمی خطوط اور ایف آئی آر درج کرنے کے عمل میں نوآبادیاتی اور غلامانہ اصطلاحات ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام کا نوکر نہیں۔
فیصلے کے مطابق اب پولیس خطوط اور درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او کی جگہ صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے گا۔
ایف آئی آر درج کروانے والے شہری کو “اطلاع دہندہ” کہا جائے گا، نہ کہ شکایت کنندہ یا فریادی، “کمپلیننٹ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود ہوگی۔
پولیس کارروائی میں لفظ “فریادی” استعمال کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا کیونکہ یہ شہری کے حق مانگنے کے بجائے رحم طلب کرنے کا تاثر دیتا ہے۔
عدالت نے ایف آئی آر میں تاخیر پر سختی سے ہدایت کی کہ یہ ناقابلِ قبول ہے اور PPC 201 کے تحت مقدمہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ شواہد کے ضائع ہونے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
یہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا جبکہ جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکات پر عدالت نے واضح ہدایات دی ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح پیش کی اور کہا کہ ریاستی رویے میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ عوام کو انصاف کے حصول میں مکمل احترام اور سہولت میسر ہو۔


















